صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
327. (94) باب ذكر الدليل على أن الالتفات المنهي عنه فى الصلاة
اس بات کی دلیل کا بیان کہ نماز میں ممنوع التفات وہ ہے جو بلا ضرورت و حاجت ہو
حدیث نمبر: 487
نَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نا مَعْمَرُ بْنُ يَعْمُرَ ، نا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلامٍ ، أَخْبَرَنِي زَيْدٌ وَهُوَ ابْنُ سَلامٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو كَبْشَةَ السَّلُولِيُّ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ سَهْلُ بْنُ الْحَنْظَلِيَّةِ . حَدَّثَنَاهُ فَهْدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى أَبِي تَوْبَةَ الرَّبِيعِ بْنِ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلامٍ ، فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ
اما م صاحب اپنے دو اساتذہ کرام جناب محمد بن یحییٰ اور فہد بن سلمان سے سیدنا سہل بن حنظلیہ رضی اللہ عنہ کی حدیث بیان کرتے ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 487]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 487، وأبو داود فى (سننه) برقم: 916، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3939»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 487 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 487
فوائد:
یہ احادیث دلیل ہیں کہ کسی خاص مجبوری کے تحت دائیں بائیں معمولی التفات جائز ہے۔
جب تک انسان قبلہ سے مکمل پشت نہ پھیر لے، اس کی نماز باطل نہیں ہوتی۔
مکمل مڑنے کی صورت میں فرض نماز باطل ہو جاتی ہے۔
یہ احادیث دلیل ہیں کہ کسی خاص مجبوری کے تحت دائیں بائیں معمولی التفات جائز ہے۔
جب تک انسان قبلہ سے مکمل پشت نہ پھیر لے، اس کی نماز باطل نہیں ہوتی۔
مکمل مڑنے کی صورت میں فرض نماز باطل ہو جاتی ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 487]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 487 in Urdu
الربيع بن نافع الحلبي ← معاوية بن سلام الحبشي