صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
348. (115) باب القراءة فى صلاة الصبح.
صبح کی نماز میں قرأت کا بیان
حدیث نمبر: 532
نَاهُ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذَا. وَهَذَا خَطَأٌ فَاحِشٌ، وَالْخَبَرُ إِنَّمَا هُوَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ سَيَّارِ ابْنِ سَلامَةَ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ . كَذَا رَوَاهُ هَؤُلاءِ الْحُفَّاظُ الَّذِينَ الْحَدِيثُ صِنَاعَتُهُمْ
جناب سلیمان تیمی سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ اور یہ نہایت فحش غلطی ہے کیونکہ یہ روایت سلیمان تیمی جناب ابومنہال سیار بن سلامہ سے اور وہ سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ فن حدیث کے ماہرین حفاظ راویوں نے اس روایت کو اسی طرح بیان کیا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 532]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 532، وانفرد به المصنف من هذا الطريق»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 532 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 532
فوائد:
➊ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اکثر معمول تھا کہ آپ نماز فجر میں طوال مفصل سورتیں تلاوت کرتے تھے۔ اور دو طوال مفصل سورتوں کو ملانے سے بعض سورتوں کی آیات کی تعداد ساٹھ سے لے کر سو تک بنتی ہے۔
➋ ◈ ابن رجب کہتے ہیں: ”ان احادیث سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر میں ساٹھ سے لے کر سو آیات تک کی تلاوت نماز فجر کی دونوں رکعات میں کرتے تھے۔ کیونکہ آپ نماز سے سلام اس وقت پھیرتے جب انسان اپنے ساتھ والے نمازی کو پہچان لیتا تھا۔ اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر رکعت میں سو کے قریب آیات کی تلاوت کرتے تو سلام پھیرتے وقت طلوع آفتاب کا وقت ہو جاتا۔“ [فتح الباري لابن رجب: 240/5]
➊ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اکثر معمول تھا کہ آپ نماز فجر میں طوال مفصل سورتیں تلاوت کرتے تھے۔ اور دو طوال مفصل سورتوں کو ملانے سے بعض سورتوں کی آیات کی تعداد ساٹھ سے لے کر سو تک بنتی ہے۔
➋ ◈ ابن رجب کہتے ہیں: ”ان احادیث سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر میں ساٹھ سے لے کر سو آیات تک کی تلاوت نماز فجر کی دونوں رکعات میں کرتے تھے۔ کیونکہ آپ نماز سے سلام اس وقت پھیرتے جب انسان اپنے ساتھ والے نمازی کو پہچان لیتا تھا۔ اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر رکعت میں سو کے قریب آیات کی تلاوت کرتے تو سلام پھیرتے وقت طلوع آفتاب کا وقت ہو جاتا۔“ [فتح الباري لابن رجب: 240/5]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 532]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 532 in Urdu
سيار بن سلامة الرياحي ← نضلة بن عمرو الأسلمي