صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
376. (143) باب ذكر خبر روي عن النبى صلى الله عليه وسلم فى تكبيره فى الصلاة فى كل خفض ورفع بلفظ عام مراده خاص.
اس حدیث کا بیان جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نماز میں ہر اٹھتے اور جھکتے وقت اللہ اکبر کہتے تھے، اس کے الفاظ عام ہیں اور مراد خاص ہے
حدیث نمبر: 577
نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَجُلا عِنْدَ الْمَقَامِ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ رَفَعٍ وَوَضْعٍ، فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقُلْتُ:" إِنِّي رَأَيْتُ رَجُلا يُصَلِّي وَيُكَبِّرُ فِي كُلِّ رَفْعٍ وَوَضْعٍ، فَقَالَ: أَوَلَيْسَ تِلْكَ صَلاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لا أُمَّ لَكَ؟"
حضرت عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو مقام ابراہیم کے پاس (نماز میں) ہر اُٹھتے اور جُھکتے وقت تکبیر کہتے ہوئے دیکھا تو میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ میں نے ایک شخص کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے وہ ہر اُٹھتے اور جُھکتے وقت «اللهُ أَكْبَرُ» کہتا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ تیری ماں مر جائے کیا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز نہیں ہے؟ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 577]
تخریج الحدیث: صحيح بخاري
الرواة الحديث:
عكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي