صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
377. (144) باب ذكر الدليل على أن هذه اللفظة التى ذكرتها لفظ عام مراده خاص،
اس بات کی دلیل کا بیان کہ جو الفاظ میں ذکر کیے ہیں، یہ عام ہیں، ان سے مراد خاص ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر مرتبہ اٹھتے وقت اللہ اکبر نہیں کہتے تھے بلکہ بعض دفعہ کہتے تھے، آپ رکوع یا سر اٹھاتے وقت اللہ اکبر کہتے تھے بلکہ آپ رکوع سے سراٹھانے کے سوا ہر مرتبہ اٹھتے وقت اللہ اکبر کہتے ہیں
حدیث نمبر: 582
قَالَ: حَدَّثَنَا بِخَبَرٍ عِكْرِمَةُ نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، نا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ . ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ ، كِلاهُمَا عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ: قُلْتُ لابْنِ عَبَّاسٍ: صَلَّيْتُ الظُّهْرَ بِالْبَطْحَاءِ خَلْفَ شَيْخٍ أَحْمَقَ، فَكَبَّرَ اثْنَتَيْنِ وَعِشْرِينَ تَكْبِيرَةً، إِذَا سَجَدَ، وَإِذَا رَكَعَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" تِلْكَ سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" . هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي مُوسَى. وَقَالَ ابْنُ خَشْرَمٍ:" تِلْكَ سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ، أَوْ صَلاةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" شَكَّ سَعِيدٌ. وَقَالَ نَصْرٌ:" تِلْكَ صَلاةُ أَبِي الْقَاسِمِ" وَلَمْ يَشُكَّ. نا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ میں نے ظہر کی نماز (وادی) بطحاء میں ایک کم عقل بوڑھے کے پیچھے پڑھی ہے تو اُس نے بائیس تکبیریں کہی ہیں۔ جب اُس نے سجدہ کیا، اور جب رُکوع کیا اور جب رُکوع سے سر اُٹھایا (تو اُس نے تکبیر کہی) تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا، یہ تو ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنّت ہے۔ ابن خشرم نے اپنی روایت میں اس طرح بیان کیا کہ یہ تو ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنّت ہے یا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ہے۔ جناب سعید نے شک کے ساتھ یہ الفاظ بیان کیے ہیں۔ جبکہ جناب نصر نے بغیر شک کے یہ الفاظ بیان کیے ہیں کہ یہ تو ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 582]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 787، 788، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 577، 582، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1765، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2539، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1911»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 582 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 582
فوائد:
ان احادیث میں رکوع سے اٹھتے وقت کے سوا (نماز کے ہر رکن میں) اٹھتے اور جھکتے وقت تکبیر کہنے کا ثبوت ہے۔
البتہ رکوع سے اٹھتے وقت «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہنا مشروع ہے۔
اس مسئلے پر موجودہ اور گزشتہ دور سے اجماع ثابت ہے۔
البتہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں اس مسئلہ میں اختلاف تھا۔
اس دور میں بعض لوگ تکبیر تحریمہ ہی کو مشروع خیال کرتے تھے اور کچھ لوگ اس سے کچھ تکبیروں میں اضافہ درست مانتے تھے۔
اس کی وجہ یہ تھی کہ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کا علم نہیں تھا۔
اسی لیے تو سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا تھا کہ تمہاری نسبت میری نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے زیادہ مشابہ ہے۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے موافق عمل قرار پا چکا ہے۔
چنانچہ ہر دو رکعت نماز میں تکبیرات کی تعداد گیارہ ہے۔
اور یہ تعداد اس طرح ہے: تکبیر تحریمہ اور ہر رکعت میں پانچ تکبیرات (یوں دو رکعت نماز میں گیارہ تکبیرات بنتی ہیں)۔
تین رکعات نماز کی تکبیرات سترہ ہیں۔
یعنی تکبیر تحریمہ، تشہد سے اٹھتے وقت کی تکبیر اور ہر رکعت کی پانچ تکبیرات۔
اور چار رکعت نماز کی تکبیرات کی تعداد بائیس بنتی ہے۔
پانچ فرض نمازوں کی تکبیرات 94 چورانوے ہیں۔
نیز تکبیر تحریمہ واجب ہے اور باقی تکبیرات مسنون ہیں۔
بالفرض تکبیر تحریمہ کے سوا کوئی تکبیر ترک کی جائے تو نماز درست ہوگی، لیکن اس سے فضیلت اور سنت کی موافقت چھوٹ جائے گی۔
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے سوا تمام علماء کا یہی موقف ہے۔
◈ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا موقف ہے کہ تمام تکبیرات واجب ہیں۔
جمہور علماء کی دلیل یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیہاتی شخص کو نماز سکھائی اور اسے نماز کے تمام واجبات کی تعلیم دی تھی اور ان واجبات میں تکبیر تحریمہ بھی شامل ہے، تکبیر تحریمہ کے سوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی اور تکبیر کا ذکر نہیں کیا ہے اور یہ بیان کا وقت تھا اور اس سے تاخیر روا نہیں تھی۔
** [شرح النووي: 96/4-97] **
ان احادیث میں رکوع سے اٹھتے وقت کے سوا (نماز کے ہر رکن میں) اٹھتے اور جھکتے وقت تکبیر کہنے کا ثبوت ہے۔
البتہ رکوع سے اٹھتے وقت «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہنا مشروع ہے۔
اس مسئلے پر موجودہ اور گزشتہ دور سے اجماع ثابت ہے۔
البتہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں اس مسئلہ میں اختلاف تھا۔
اس دور میں بعض لوگ تکبیر تحریمہ ہی کو مشروع خیال کرتے تھے اور کچھ لوگ اس سے کچھ تکبیروں میں اضافہ درست مانتے تھے۔
اس کی وجہ یہ تھی کہ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کا علم نہیں تھا۔
اسی لیے تو سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا تھا کہ تمہاری نسبت میری نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے زیادہ مشابہ ہے۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے موافق عمل قرار پا چکا ہے۔
چنانچہ ہر دو رکعت نماز میں تکبیرات کی تعداد گیارہ ہے۔
اور یہ تعداد اس طرح ہے: تکبیر تحریمہ اور ہر رکعت میں پانچ تکبیرات (یوں دو رکعت نماز میں گیارہ تکبیرات بنتی ہیں)۔
تین رکعات نماز کی تکبیرات سترہ ہیں۔
یعنی تکبیر تحریمہ، تشہد سے اٹھتے وقت کی تکبیر اور ہر رکعت کی پانچ تکبیرات۔
اور چار رکعت نماز کی تکبیرات کی تعداد بائیس بنتی ہے۔
پانچ فرض نمازوں کی تکبیرات 94 چورانوے ہیں۔
نیز تکبیر تحریمہ واجب ہے اور باقی تکبیرات مسنون ہیں۔
بالفرض تکبیر تحریمہ کے سوا کوئی تکبیر ترک کی جائے تو نماز درست ہوگی، لیکن اس سے فضیلت اور سنت کی موافقت چھوٹ جائے گی۔
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے سوا تمام علماء کا یہی موقف ہے۔
◈ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا موقف ہے کہ تمام تکبیرات واجب ہیں۔
جمہور علماء کی دلیل یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیہاتی شخص کو نماز سکھائی اور اسے نماز کے تمام واجبات کی تعلیم دی تھی اور ان واجبات میں تکبیر تحریمہ بھی شامل ہے، تکبیر تحریمہ کے سوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی اور تکبیر کا ذکر نہیں کیا ہے اور یہ بیان کا وقت تھا اور اس سے تاخیر روا نہیں تھی۔
** [شرح النووي: 96/4-97] **
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 582]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 582 in Urdu
هشام بن أبي عبد الله الدستوائي ← قتادة بن دعامة السدوسي