صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
465. (232) باب الأمر بالتعوذ بعد التشهد وقبل السلام.
تشہد پڑھنے کے بعد اور سلام پھیرنے سے پہلے اللہ تعالی کی پناہ طلب کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 721
نا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ . ح وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الأَحْمَسِيُّ ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ . ح وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ الْحَرَّانِيُّ ، جَمِيعًا عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا تَشَهَّدَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنْ أَرْبَعٍ، يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَمَنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ" . هَذَا حَدِيثُ وَكِيعٍ. وَفِي حَدِيثِ عِيسَى: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ. نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الأَحْمَسِيُّ ، نا وَكِيعٌ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص تشہد پڑھ لے تو اُسے چار چیزوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنی چاہیے۔ وہ اس طرح دعا «اللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَھَنَّمَ وَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ» ”اے اللہ میں جہنّم کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور قبر کے عذاب سے اور مسیح دجال کے فتنے کے شر سے اور زندگی و موت کے فتنے کے شر سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں۔“ یہ وکیع کی حدیث ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 721]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1377، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 585، وابن الجارود فى "المنتقى"، 230، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 721، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1002، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1016، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1309، وأبو داود فى (سننه) برقم: 983، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3604،، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 909، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2926، 2927، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2378»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 721 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 721
فوائد:
➊ حدیث مطلق تشہد پر دلالت کرتی ہے، لیکن آئندہ حدیث دلیل ہے کہ مذکورہ استعاذہ کا محل آخری تشہد ہے۔
❀ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«إِذَا فَرَغَ أَحَدُكُمْ مِنَ التَّشَهُّدِ الْآخِرِ، فَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ أَرْبَعٍ: مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَمِنْ شَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ»
”جب تم میں سے کوئی شخص آخری تشہد سے فارغ ہو تو وہ چار چیزوں کے شر سے: عذابِ جہنم، عذابِ قبر، زندگی اور موت کا فتنہ اور مسیح دجال کے شر سے اللہ کی پناہ طلب کرے۔“ [صحيح مسلم: 588، سنن أبي داود: 983، صحيح ابن حبان: 1967، مسند أحمد: 237/2]
➋ ◈ امام شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”اس حدیث میں اس استعاذہ کے محل کی تعیین ہے کہ اس کا محل آخری تشہد کے بعد ہے اور یہ حدیث مقید ہے اور حدیثِ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مطلق ہے۔
لہٰذا حدیثِ عائشہ کو اس مقید روایت پر محمول کیا جائے گا اور اس حدیث میں ابن حزم کے اس موقف کی بھی تردید ہے کہ تشہدِ اول پر بھی یہ مسئلہ مذکورہ (استعاذہ) واجب ہے، نیز جن روایات میں نمازی کو اجازت ہے کہ وہ تشہد کے بعد حسبِ منشا جس مرضی دعا کا انتخاب کر لے، اس دعا کی اس استعاذہ کے بعد اجازت ہے۔“
«فَلْيَتَعَوَّذْ» اس امر سے مذکورہ استعاذہ کے وجوب پر استدلال کیا گیا ہے اور بعض اہل ظاہر اس استعاذہ کے وجوب کے قائل ہیں اور طاؤس سے بھی یہی منقول ہے۔
اور رائج موقف یہی ہے کہ اگر یہ حکم حدیثِ مسیءُ الصلوٰۃ کے بعد کا ہو تو مذکورہ استعاذہ کا اہتمام واجب ہے۔ [نيل الأوطار: 304/2-305]
➊ حدیث مطلق تشہد پر دلالت کرتی ہے، لیکن آئندہ حدیث دلیل ہے کہ مذکورہ استعاذہ کا محل آخری تشہد ہے۔
❀ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«إِذَا فَرَغَ أَحَدُكُمْ مِنَ التَّشَهُّدِ الْآخِرِ، فَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ أَرْبَعٍ: مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَمِنْ شَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ»
”جب تم میں سے کوئی شخص آخری تشہد سے فارغ ہو تو وہ چار چیزوں کے شر سے: عذابِ جہنم، عذابِ قبر، زندگی اور موت کا فتنہ اور مسیح دجال کے شر سے اللہ کی پناہ طلب کرے۔“ [صحيح مسلم: 588، سنن أبي داود: 983، صحيح ابن حبان: 1967، مسند أحمد: 237/2]
➋ ◈ امام شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”اس حدیث میں اس استعاذہ کے محل کی تعیین ہے کہ اس کا محل آخری تشہد کے بعد ہے اور یہ حدیث مقید ہے اور حدیثِ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مطلق ہے۔
لہٰذا حدیثِ عائشہ کو اس مقید روایت پر محمول کیا جائے گا اور اس حدیث میں ابن حزم کے اس موقف کی بھی تردید ہے کہ تشہدِ اول پر بھی یہ مسئلہ مذکورہ (استعاذہ) واجب ہے، نیز جن روایات میں نمازی کو اجازت ہے کہ وہ تشہد کے بعد حسبِ منشا جس مرضی دعا کا انتخاب کر لے، اس دعا کی اس استعاذہ کے بعد اجازت ہے۔“
«فَلْيَتَعَوَّذْ» اس امر سے مذکورہ استعاذہ کے وجوب پر استدلال کیا گیا ہے اور بعض اہل ظاہر اس استعاذہ کے وجوب کے قائل ہیں اور طاؤس سے بھی یہی منقول ہے۔
اور رائج موقف یہی ہے کہ اگر یہ حکم حدیثِ مسیءُ الصلوٰۃ کے بعد کا ہو تو مذکورہ استعاذہ کا اہتمام واجب ہے۔ [نيل الأوطار: 304/2-305]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 721]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 721 in Urdu
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي