صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
469. (236) باب صفة السلام فى الصلاة.
نماز میں سلام پھیرنے کی کیفیت کا بیان
حدیث نمبر: 728
نا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، قَالَ إِسْحَاقُ: حَدَّثَنَا عُمَرُ، وَقَالَ زِيَادٌ: حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدِّهِ، السَّلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، وَعَنْ شِمَالِهِ حَتَّى يَبْدُوَ بَيَاضُ خَدِّهِ، السَّلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ"
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دائیں جانب «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ» ”تم پر سلامتی ہو اور اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں“ کہتے ہوئے سلام پھیرتے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رخسار مبارک کی سفیدی نظر آنے لگتی۔ اور اپنی بائیں جانب «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ» کہتے ہوئے سلام پھیرتے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رخسار مبارک کی سفیدی ظاہر ہو جاتی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 728]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 232، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 728، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1990، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1082، وأبو داود فى (سننه) برقم: 996، والترمذي فى (جامعه) برقم: 253، 295، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1284، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 914، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3023، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1348، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3734»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 728 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 728
فوائد:
مذکورہ احادیث شافعی اور جمہور علماء کے مذہب کی دلیل ہیں کہ دونوں طرف سلام پھیرنا مسنون ہے، جبکہ مالک اور علماء کی قلیل تعداد کا موقف ہے کہ ایک طرف سلام پھیرنا ہی سنت ہے۔
لیکن ان کے موقف کے ضعیف دلائل مذکورہ صحیح احادیث کے مقابل بے حیثیت ہیں۔
اور بالفرض ایک طرف سلام پھیرنے کے بارے احادیث ثابت ہوں بھی، تو انہیں بیانِ جواز پر محمول کیا جائے گا۔
نیز تمام علماء کا اجماع ہے کہ نماز میں ایک سلام واجب ہے۔
پھر اگر نمازی نے ایک سلام کا اہتمام کرنا ہو تو وہ قبلہ رو سلام کہے اور اگر اس نے دونوں طرف سلام پھیرنا ہو تو ایک سلام دائیں طرف اور دوسرا سلام بائیں طرف پھیرے۔
نیز ہر سلام میں اس قدر منہ پھیرے کہ اس کی جانب والا شخص اس کے رخسار دیکھ سکے۔
یہی موقف راجح ہے۔ [المنهاج شرح صحيح مسلم للنووي: 82/5]
مذکورہ احادیث شافعی اور جمہور علماء کے مذہب کی دلیل ہیں کہ دونوں طرف سلام پھیرنا مسنون ہے، جبکہ مالک اور علماء کی قلیل تعداد کا موقف ہے کہ ایک طرف سلام پھیرنا ہی سنت ہے۔
لیکن ان کے موقف کے ضعیف دلائل مذکورہ صحیح احادیث کے مقابل بے حیثیت ہیں۔
اور بالفرض ایک طرف سلام پھیرنے کے بارے احادیث ثابت ہوں بھی، تو انہیں بیانِ جواز پر محمول کیا جائے گا۔
نیز تمام علماء کا اجماع ہے کہ نماز میں ایک سلام واجب ہے۔
پھر اگر نمازی نے ایک سلام کا اہتمام کرنا ہو تو وہ قبلہ رو سلام کہے اور اگر اس نے دونوں طرف سلام پھیرنا ہو تو ایک سلام دائیں طرف اور دوسرا سلام بائیں طرف پھیرے۔
نیز ہر سلام میں اس قدر منہ پھیرے کہ اس کی جانب والا شخص اس کے رخسار دیکھ سکے۔
یہی موقف راجح ہے۔ [المنهاج شرح صحيح مسلم للنووي: 82/5]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 728]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 728 in Urdu
عوف بن مالك الجشمي ← عبد الله بن مسعود