صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
488. (255) بَابُ إِبَاحَةِ الصَّلَاةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ، وَبِحَضْرَةِ الْمُصَلِّي ثِيَابٌ لَهُ غَيْرُ الثَّوْبِ الْوَاحِدِ الَّذِي يُصَلِّي فِيهِ
ایک کپڑے میں نماز پڑھنا جائز ہے حالانکہ نمازی کے پاس اس ایک کپڑے کے سوا جس میں وہ نماز پڑھ رہا ہو، دیگر کپڑے بھی موجود ہوں
حدیث نمبر: 762
نا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ اللَّيْثِيُّ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُخَالِفًا بَيْنَ طَرَفَيْهِ عَلَى عَاتِقَيْهِ، وَثِيَابُهُ عَلَى الْمِشْجَبِ"
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کپڑے میں، اُس کے کناروں کو الٹ کر اپنے کندھوں پر ڈالے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے (دوسرے) کپڑے کُھونٹی پر لٹکے ہوئے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب اللباس فى الصلاة/حدیث: 762]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 352، 353، 361، 370، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 518، وابن الجارود فى "المنتقى"، 191، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 762، 767، 1535، 1536، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2197، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 938، وأبو داود فى (سننه) برقم: 485، 633، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 974، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3330، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14336»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 762 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 762
فوائد:
علماء بیان کرتے ہیں کہ ایک کپڑے کی صورت میں اسے کندھوں پر ڈالنے کی حکمت یہ ہے کہ ازار باندھنے کے بعد اگر کندھوں پر کپڑا نہ ہو تو شرمگاہ کے کھلنے کا اندیشہ رہتا ہے، اس کے برعکس کندھوں پر کپڑا ہو تو شرمگاہ کے کھلنے کا ڈر نہیں ہوتا۔
نیز اگر کندھوں سے گزار کر گردن کے پیچھے کپڑا نہ باندھا ہو تو دورانِ نماز ایک ہاتھ یا دونوں ہاتھوں سے کپڑا پکڑنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
کندھوں پر کپڑا نہ ڈالنے کی صورت میں بالائی بدن کا ستر اور موضع زینت بھی متروک رہتی ہے۔
جبکہ اللہ تعالیٰ نے زینت اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔
➊ ◈ امام مالک، امام ابو حنیفہ، امام شافعی اور جمہور علماء کا موقف ہے کہ یہ نہی تنزیہی ہے، تحریمی نہیں ہے۔
چنانچہ اگر کوئی شخص ستر بند باندھ کر اس حال میں نماز پڑھے کہ اس کے کندھے ننگے ہوں تو کراہت کے باوجود اس کی نماز درست ہے، خواہ وہ کندھوں پر کپڑا ڈالنے پر قادر ہو۔
➋ ◈ امام احمد اور بعض سلف کا موقف ہے کہ اگر انسان کندھے پر کپڑا رکھنے کی قدرت رکھنے کے باوجود کندھے ننگے رکھے تو ظاہر احادیث کی رو سے اس کی نماز باطل ہے۔ [شرح النووي: 231/4]
مؤخر الذکر موقف راجح ہے۔
علماء بیان کرتے ہیں کہ ایک کپڑے کی صورت میں اسے کندھوں پر ڈالنے کی حکمت یہ ہے کہ ازار باندھنے کے بعد اگر کندھوں پر کپڑا نہ ہو تو شرمگاہ کے کھلنے کا اندیشہ رہتا ہے، اس کے برعکس کندھوں پر کپڑا ہو تو شرمگاہ کے کھلنے کا ڈر نہیں ہوتا۔
نیز اگر کندھوں سے گزار کر گردن کے پیچھے کپڑا نہ باندھا ہو تو دورانِ نماز ایک ہاتھ یا دونوں ہاتھوں سے کپڑا پکڑنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
کندھوں پر کپڑا نہ ڈالنے کی صورت میں بالائی بدن کا ستر اور موضع زینت بھی متروک رہتی ہے۔
جبکہ اللہ تعالیٰ نے زینت اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔
➊ ◈ امام مالک، امام ابو حنیفہ، امام شافعی اور جمہور علماء کا موقف ہے کہ یہ نہی تنزیہی ہے، تحریمی نہیں ہے۔
چنانچہ اگر کوئی شخص ستر بند باندھ کر اس حال میں نماز پڑھے کہ اس کے کندھے ننگے ہوں تو کراہت کے باوجود اس کی نماز درست ہے، خواہ وہ کندھوں پر کپڑا ڈالنے پر قادر ہو۔
➋ ◈ امام احمد اور بعض سلف کا موقف ہے کہ اگر انسان کندھے پر کپڑا رکھنے کی قدرت رکھنے کے باوجود کندھے ننگے رکھے تو ظاہر احادیث کی رو سے اس کی نماز باطل ہے۔ [شرح النووي: 231/4]
مؤخر الذکر موقف راجح ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 762]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 762 in Urdu
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري