صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
489. (256) باب عقد الإزار على العاتقين إذا صلى المصلي فى إزار واحد ضيق
جب نمازی ایک ہی تنگ تہبند میں نماز پڑھے تو تہبند کو کندھوں پر باندھنے کا بیان
حدیث نمبر: 764
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" كُنْتُ فِي سَبْعِينَ مِنْ أَصْحَابِ الصُّفَّةِ، مَا مِنْهُمْ رَجُلٌ عَلَيْهِ رِدَاءٌ، إِمَّا بُرْدَةٌ أَوْ كِسَاءٌ قَدْ رَبَطُوهَا فِي أَعْنَاقِهِمْ، فَمِنْهَا مَا يَبْلُغُ السَّاقَ، وَمِنْهَا مَا يَبْلُغُ الْكَعْبَيْنِ فَيَجْمَعُهُ بِيَدِهِ كَرَاهِيَةَ أَنْ تُرَى عَوْرَتُهُ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَبُو حَازِمٍ مَدَنِيٌّ اسْمُهُ سَلَمَةُ بْنُ دِينَارٍ الَّذِي رَوَى، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، وَالَّذِي رَوَى عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ سَلْمَانُ الأَشْجَعِيُّ
سیدنا ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں ستّر اصحاب صفہ میں سے ایک فرد تھا۔ اُن میں سے کسی شخص پر ( جسم کے بالائی حصّے کو ڈھانپنے والی) چادر نہیں ہوتی تھی۔ یا دھاری دار اوڑھنی ہوتی یا کمبل وغیرہ ہوتا ہے جسے اُنہوں نے اپنی گردنوں میں باندھنا ہوتا تھا۔ ان میں سے بعض پنڈلی تک پہنچ جاتے اور بعض ٹخنوں تک پہنچ جاتے تو وہ اُسے اپنے ہاتھ کے ساتھ اکٹھّا کر لیتا، اس ڈر سے کہ کہیں اُس کی شرمگاہ نہ نظر آجائے۔ امام ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے والے ابوحازم مدنی کا نام سلمہ بن دینار ہے۔ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے والے ابوحازم کا نام سلمان اشجعی ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب اللباس فى الصلاة/حدیث: 764]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 442، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 764، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 682، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4315، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3354، والبزار فى (مسنده) برقم: 9771، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 3269»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 764 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 764
فوائد:
➊ دورانِ نماز کھلا ایک کپڑا میسر ہو تو اسے کندھوں سے مخالف سمت میں گزار کر گردن کے پیچھے باندھنا درست ہے۔
اس سے بہتر ستر پوشی ہوتی ہے اور شرمگاہ کے کھلنے کا خوف نہیں ہوتا۔
البتہ اگر کپڑا تنگ ہو تو فقط تہبند باندھنا کافی ہے۔
➋ عورتوں کو مردوں کے بعد ارکانِ نماز میں منتقل ہونا چاہیے۔
بالخصوص جب مردوں کا لباس محدود ہو اور مکمل ستر پوشی نہ ہو۔
➊ دورانِ نماز کھلا ایک کپڑا میسر ہو تو اسے کندھوں سے مخالف سمت میں گزار کر گردن کے پیچھے باندھنا درست ہے۔
اس سے بہتر ستر پوشی ہوتی ہے اور شرمگاہ کے کھلنے کا خوف نہیں ہوتا۔
البتہ اگر کپڑا تنگ ہو تو فقط تہبند باندھنا کافی ہے۔
➋ عورتوں کو مردوں کے بعد ارکانِ نماز میں منتقل ہونا چاہیے۔
بالخصوص جب مردوں کا لباس محدود ہو اور مکمل ستر پوشی نہ ہو۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 764]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 764 in Urdu
سلمان مولى عزة ← أبو هريرة الدوسي