صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
عورت کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 826
ناهُ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، نَا الأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: رُبَّمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي بِاللَّيْلِ وَسَطَ السَّرِيرِ، وَأَنَا عَلَى السَّرِيرِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، تَكُونُ لِي الْحَاجَةُ، فَأَنْسَلُّ مِنْ قِبَلِ رِجْلَيِ السَّرِيرِ كَرَاهَةَ أَنْ أَسْتَقْبِلَهُ بِوَجْهِي"
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں بسا اوقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کے وقت چارپائی کے درمیان میں کھڑے ہو کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھتی جبکہ میں چارپائی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور قبلہ کے درمیان لیٹی ہوتی، مجھے کوئی حاجت پیش آتی تو میں چارپائی کی پائنتی کی طرف سے کھسک جاتی، اس بات کو ناپسند کرتے ہوئے کہ میں اپنا چہرہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کروں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب سترة المصلي/حدیث: 826]
تخریج الحدیث:
الرواة الحديث:
الأسود بن يزيد النخعي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق