صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
نمازی کو اپنے آگے سے گزرنے والی بکری کو روکنے کے جواز کا بیان۔
حدیث نمبر: 827
أنا أَبُو طَاهِرٍ، نَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ الرُّخَامِيُّ ، نَا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ ، نَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ ، وَالزُّبَيْرِ بْنِ الْخِرِّيتِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُصَلِّي فَمَرَّتْ شَاةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ فَسَاعَاهَا إِلَى الْقِبْلَةِ حَتَّى أَلْزَقَ بَطْنُهُ بِالْقِبْلَةِ"
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے تو ایک بکری آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے گزری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبلہ کی طرف دوڑایا حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا پیٹ قبلہ (کی دیوار یا سُترے) کے ساتھ چمٹا لیا۔ (تاکہ بکری گزر نہ سکے)۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب سترة المصلي/حدیث: 827]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 827، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2371، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 405، 406، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 940، والطبراني فى(الكبير) برقم: 11937»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 827 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 827
فوائد:
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ دورانِ نماز سامنے سے صرف انسانوں ہی کو نہیں، بلکہ حتیٰ کہ بڑے جانوروں کو بھی گزرنے سے روکنا چاہیے۔
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ دورانِ نماز سامنے سے صرف انسانوں ہی کو نہیں، بلکہ حتیٰ کہ بڑے جانوروں کو بھی گزرنے سے روکنا چاہیے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 827]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 827 in Urdu
عكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي