صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
570. (337) باب الرخصة بالإشارة فى الصلاة برد السلام إذا سلم على المصلي
جب نمازی کو سلام کیا جائے تو اشارے کے ساتھ نماز کے دوران سلام کا جواب دینے کی رخصت ہے
حدیث نمبر: 888
نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، نَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، وَأَبُو عَمَّارٍ ، قَالَ أَبُو عَمَّارٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، وَقَالَ عَلِيٌّ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسْجِدَ قُبَا، وَدَخَلَ عَلَيْهِ رِجَالٌ مِنَ الأَنْصَارِ يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ، فَسَأَلْتُ صُهَيْبًا : كَيْفَ كَانَ يَصْنَعُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ يُسَلَّمُ عَلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي؟ قَالَ:" كَانَ يُشِيرُ بِيَدِهِ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا حَدِيثُ أَبِي عَمَّارٍ، زَادَ عَبْدُ الْجَبَّارِ، قَالَ سُفْيَانُ: قُلْتُ لِزَيْدٍ: سَمِعْتَ هَذَا مِنِ ابْنِ عُمَرَ؟ قَالَ: نَعَمْ
سیدنا ابن عمر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قبا میں داخل ہوئے تو کچھ انصاری صحابہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرنے کے لئے حاضر ہو گئے، میں نے حضرت صہیب سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کی حالت میں سلام کا جواب کیسے دیتے تھے؟ انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ کے اشارے کے ساتھ جو اب دیتے تھے۔ جناب سفیان کہتے ہیں کہ میں نے زید بن اسلم سے پوچھا تو کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ روایت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا کہ، ہاں (سنی ہے)۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأفعال المباحة فى الصلاة/حدیث: 888]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 238، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 888، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2258، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4301، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1186، وأبو داود فى (سننه) برقم: 927، والترمذي فى (جامعه) برقم: 368، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1402، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1017، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3453، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4657، والحميدي فى (مسنده) برقم: 148»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 888 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 888
فوائد:
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ نماز میں اشارے سے سلام کا جواب دینا جائز ہے، جمہور علماء کا یہی موقف ہے اور یہی مذہب راجح ہے۔
احناف کا اس بارے میں اختلاف ہے۔
بعض حنفی مثلاً طحاوی وغیرہ اسے مکروہ خیال کرتے ہیں اور کچھ حنفی علماء اسے جائز قرار دیتے ہیں۔ [تحفة الأحوذي: 252/2]
➋ نمازی کو سلام کہنا مستحب فعل ہے اور دینی حق ہے، لہذا یہ نظریہ باطل ہے کہ دورانِ نماز سلام نہ کہا جائے۔
➌ اور دورانِ نماز سلام کہنے والے کو ہاتھ کے اشارے سے سلام کا جواب دیا جائے، اور بول کر سلام کا جواب دینے سے نماز باطل ہو جاتی ہے۔
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ نماز میں اشارے سے سلام کا جواب دینا جائز ہے، جمہور علماء کا یہی موقف ہے اور یہی مذہب راجح ہے۔
احناف کا اس بارے میں اختلاف ہے۔
بعض حنفی مثلاً طحاوی وغیرہ اسے مکروہ خیال کرتے ہیں اور کچھ حنفی علماء اسے جائز قرار دیتے ہیں۔ [تحفة الأحوذي: 252/2]
➋ نمازی کو سلام کہنا مستحب فعل ہے اور دینی حق ہے، لہذا یہ نظریہ باطل ہے کہ دورانِ نماز سلام نہ کہا جائے۔
➌ اور دورانِ نماز سلام کہنے والے کو ہاتھ کے اشارے سے سلام کا جواب دیا جائے، اور بول کر سلام کا جواب دینے سے نماز باطل ہو جاتی ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 888]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 888 in Urdu
عبد الله بن عمر العدوي ← صهيب الرومي