🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
570. (337) باب الرخصة بالإشارة فى الصلاة برد السلام إذا سلم على المصلي
جب نمازی کو سلام کیا جائے تو اشارے کے ساتھ نماز کے دوران سلام کا جواب دینے کی رخصت ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 888
نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، نَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، وَأَبُو عَمَّارٍ ، قَالَ أَبُو عَمَّارٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، وَقَالَ عَلِيٌّ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسْجِدَ قُبَا، وَدَخَلَ عَلَيْهِ رِجَالٌ مِنَ الأَنْصَارِ يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ، فَسَأَلْتُ صُهَيْبًا : كَيْفَ كَانَ يَصْنَعُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ يُسَلَّمُ عَلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي؟ قَالَ:" كَانَ يُشِيرُ بِيَدِهِ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا حَدِيثُ أَبِي عَمَّارٍ، زَادَ عَبْدُ الْجَبَّارِ، قَالَ سُفْيَانُ: قُلْتُ لِزَيْدٍ: سَمِعْتَ هَذَا مِنِ ابْنِ عُمَرَ؟ قَالَ: نَعَمْ
سیدنا ابن عمر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قبا میں داخل ہوئے تو کچھ انصاری صحابہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرنے کے لئے حاضر ہو گئے، میں نے حضرت صہیب سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کی حالت میں سلام کا جواب کیسے دیتے تھے؟ انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ کے اشارے کے ساتھ جو اب دیتے تھے۔ جناب سفیان کہتے ہیں کہ میں نے زید بن اسلم سے پوچھا تو کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ روایت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا کہ، ہاں (سنی ہے)۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأفعال المباحة فى الصلاة/حدیث: 888]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 238، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 888، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2258، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4301، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1186، وأبو داود فى (سننه) برقم: 927، والترمذي فى (جامعه) برقم: 368، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1402، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1017، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3453، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4657، والحميدي فى (مسنده) برقم: 148»


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥صهيب الرومي، أبو يحيى، أبو غسانصحابي
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن عمر العدوي ← صهيب الرومي
صحابي
👤←👥زيد بن أسلم القرشي، أبو خالد، أبو أسامة، أبو عبد الله
Newزيد بن أسلم القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← زيد بن أسلم القرشي
ثقة حافظ حجة
👤←👥الحسين بن حريث الخزاعي، أبو عمار
Newالحسين بن حريث الخزاعي ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة
👤←👥علي بن خشرم المروزي، أبو الحسن
Newعلي بن خشرم المروزي ← الحسين بن حريث الخزاعي
ثقة
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن عمر العدوي ← علي بن خشرم المروزي
صحابي
👤←👥زيد بن أسلم القرشي، أبو خالد، أبو أسامة، أبو عبد الله
Newزيد بن أسلم القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← زيد بن أسلم القرشي
ثقة حافظ حجة
👤←👥عبد الجبار بن العلاء العطار، أبو بكر
Newعبد الجبار بن العلاء العطار ← سفيان بن عيينة الهلالي
صدوق حسن الحديث
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 888 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 888
فوائد:
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ نماز میں اشارے سے سلام کا جواب دینا جائز ہے، جمہور علماء کا یہی موقف ہے اور یہی مذہب راجح ہے۔
احناف کا اس بارے میں اختلاف ہے۔
بعض حنفی مثلاً طحاوی وغیرہ اسے مکروہ خیال کرتے ہیں اور کچھ حنفی علماء اسے جائز قرار دیتے ہیں۔ [تحفة الأحوذي: 252/2]
➋ نمازی کو سلام کہنا مستحب فعل ہے اور دینی حق ہے، لہذا یہ نظریہ باطل ہے کہ دورانِ نماز سلام نہ کہا جائے۔
➌ اور دورانِ نماز سلام کہنے والے کو ہاتھ کے اشارے سے سلام کا جواب دیا جائے، اور بول کر سلام کا جواب دینے سے نماز باطل ہو جاتی ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 888]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 888 in Urdu