🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
605. (372) باب ذكر نفي قبول صلاة المرائي بها
دکھلاوے کے لئے پڑھنے والے کی نماز قبول نہیں ہوتی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 938
نَا نَا بُنْدَارٌ ، نَا مُحَمَّدٌ ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْعَلاءَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْوِيهِ عَنْ رَبِّهِ، قَالَ: " أَنَا خَيْرُ الشُّرَكَاءِ" وَقَالَ بُنْدَارٌ:" أَنَا أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ فَمَنْ عَمَلَ عَمَلا فَأَشْرَكَ فِيهِ غَيْرِي فَأَنَا مِنْهُ بَرِيءٌ وَهُوَ لِلَّذِي أَشْرَكَ" وَقَالَ بُنْدَارٌ: قَالَ:" فَأَنَا مِنْهُ بَرِيءٌ وَلْيَلْتَمِسْ ثَوَابَهُ مِنْهُ" وَقَالَ بُنْدَارٌ: عَنِ الْعَلاءِ
سیدنا ابوہریرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کر تے ہیں جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پروردگار سے بیان کر تے ہیں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں شریکوں سے بہتر ہوں۔ اور بندار کی روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ میں شریکوں کے شرک سے بے پرواہوں۔ لہٰذا جس شخص نے کوئی عمل کیا اور اس میں میرے ساتھ کسی کو شریک بنایا تو میں اس سے بری ہوں، اور وہ عمل اُسی کے لئے ہے جسے اُس نے شریک بنایا تھا۔ جناب بندار کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ تو میں اس سے بیزار اور لاتعلق ہوں اور اُسے اپنا اجروثواب اسی (شریک) سے مانگنا چاہیے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأفعال المكروهة فى الصلاة التى قد نهي عنها المصلي/حدیث: 938]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2985، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 938، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 395، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4202، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8114»
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن يعقوب الجهني، أبو العلاء
Newعبد الرحمن بن يعقوب الجهني ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥العلاء بن عبد الرحمن الحرقي، أبو شبل
Newالعلاء بن عبد الرحمن الحرقي ← عبد الرحمن بن يعقوب الجهني
صدوق حسن الحديث
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← العلاء بن عبد الرحمن الحرقي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥محمد بن جعفر الهذلي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newمحمد بن جعفر الهذلي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى
Newمحمد بن المثنى العنزي ← محمد بن جعفر الهذلي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن جعفر الهذلي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newمحمد بن جعفر الهذلي ← محمد بن المثنى العنزي
ثقة
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← محمد بن جعفر الهذلي
ثقة حافظ
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 938 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 938
فوائد:
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ اعمال، بالخصوص نماز میں ریا کاری کی خاطر اعمال کو خوب آرائش و تزئین دینا ناقابلِ معافی جرم اور شرکِ اصغر ہے۔
جس کی شدید مذمت کی گئی ہے، لہٰذا اعمال بجا لاتے وقت فقط اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی مطلوب ہونی چاہیے، اس کے سوا عبادات کا اہتمام و انعقاد رائیگاں ہے۔
➋ ریا کاری کی نماز اور دیگر اعمال شرفِ قبولیت سے محروم رہتے ہیں اور روزِ قیامت جب انسان کو اپنے اعمال کی ازحد ضرورت ہوگی، ریا کار کو بے عمل قرار دیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ اس پر سخت برہم ہوں گے۔
اور جن کے دکھلاوے کے لیے یہ اعمال بجا لاتا تھا، ان سے طلبِ ثواب کے لیے ان کی طرف زبردستی بھیجا جائے گا، جو اس کے لیے سخت محرومی اور انتہائی ذلت کا مقام ہوگا۔ العیاذ باللہ۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 938]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 938 in Urdu