صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
614. (381) باب إباحة قصر المسافر الصلاة فى المدن إذا قدمها، ما لم ينو مقاما يوجب إتمام الصلاة
مسافر کے کسی شہر میں آکر نماز قصر کرنے کا بیان، جب تک وہ اتنے دن قیام کرنے کا ارادہ نہ رکھتا ہو کہ جس میں مکمّل نماز پڑھنا واجب ہو جاتا ہے
حدیث نمبر: 951
نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، نَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، ح وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، نَا مُحَمَّدٌ ، قَالا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُوسَى ، يَقُولُ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ كَيْفَ أُصَلِّي بِمَكَّةَ إِذَا لَمْ أُصَلِّ فِي جَمَاعَةٍ؟ فَقَالَ:" رَكْعَتَيْنِ سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" . وَقَالَ بُنْدَارٌ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ.
جناب موسیٰ رحمه الله سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ ”مکّہ مکرّمہ میں نماز کیسے ادا کروں جبکہ میں نے جماعت کے ساتھ نماز نہ پڑھی ہو؟ تو انہوں نے فرمایا کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنّت کے مطابق دو رکعتیں پڑھو۔ بندار کہتے ہیں کہ میں نے قتادہ کو سنا، وہ حضرت موسیٰ بن سلمہ سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الفريضة فى السفر/حدیث: 951]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 687، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 304، 943، 951، 1346، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2755، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 455، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1247، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1068، 1072، 1194، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 2508، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5466، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2021»
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 951 in Urdu
موسى بن سلمة الهذلي ← عبد الله بن العباس القرشي