🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
616. (383) باب ذكر خبر احتج به بعض من خالف الحجازيين فى إزماع المسافر مقام أربع أن له قصر الصلاة
مسافر چار دن ک اقامت کا پختہ ارادہ کر لے تو وہ قصر کر سکتا ہے اس مسئلہ میں اہلِ حجاز علماء کے مخالفین کی دلیل کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 961
فأما حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ، فَإِنَّ بُنْدَارًا حَدَّثَنَا، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " دَخَلَ مَكَّةَ مِنَ الثَّنِيَّةِ الْعُلْيَا الَّتِي عِنْدَ الْبَطْحَاءِ، وَخَرَجَ مِنَ الثَّنِيَّةِ السُّفْلَى" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَقَوْلُ ابْنِ عُمَرَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ مِنَ الثَّنِيَّةِ الْعُلْيَا دَالٌ عَلَى أَنَّ الثَّنِيَّةَ لَيْسَتْ مِنْ مَكَّةَ وَالثَّنِيَّةُ مِنَ الْحَرَمِ، وَوَرَاءَهَا أَيْضًا مِنَ الْحَرَمِ، وَكَذَا مِنَ الْحَرَمِ، وَمَا وَرَاءَهَا أَيْضًا مِنَ الْحَرَمِ إِلَى الْعَلامَاتِ الَّتِي أَعْلَمْتُ بَيْنَ الْحَرَمِ وَبَيْنَ الْحِلِّ، فَكَيْفَ يَجُوزُ، أَنْ يُقَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ مِنْ مَكَّةَ، فَلَوْ كَانَتِ الثَّنِيَّةُ مِنْ مَكَّةَ وَكَدَا مِنْ مَكَّةَ لَمَا جَازَ، أَنْ يُقَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ مِنَ الثَّنِيَّةِ وَمِنْ كَدَا. وَقَدْ يَجُوزُ أَنْ يُحْتَجَّ بِأَنَّ جَمِيعَ الْحَرَمِ مِنْ مَكَّةَ، لِقَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّ مَكَّةَ حَرَّمَهَا اللَّهُ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ"، فَجَمِيعُ الْحَرَمِ قَدْ يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ قَدْ يَقَعُ عَلَيْهِ اسْمُ مَكَّةَ إِلا أَنَّ الْمُتَعَارَفَ عِنْدَ النَّاسِ أَنَّ مَكَّةَ مَوْضِعُ الْبِنَاءِ الْمُتَّصِلِ بَعْضُهُ بِبَعْضٍ، يَقُولُ الْقَائِلُ: خَرَجَ فُلانٌ مِنْ مَكَّةَ إِلَى مِنًى، وَرَجَعَ مِنْ مِنًى إِلَى مَكَّةَ، وَإِذَا تَدَبَّرْتَ أَخْبَارَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَنَاسِكِ وَجَدْتَ مَا يُشْبِهُ هَذِهِ اللَّفْظَةِ كَثِيرًا فِي الأَخْبَارِ، فَأَمَّا عَرَفَةُ وَمَا وَرَاءَ الْحَرَمِ فَلا شَكَّ وَلا مِرْيَةَ أَنَّهُ لَيْسَ مِنْ مَكَّةَ، وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَرَ مِنْ مِنًى يَوْمَ الثَّالِثِ مِنْ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بطحاء کے پاس واقع ثنیہ علیا سے مکّہ مکرّمہ میں داخل ہوئے اور ثنیہ سفلیٰ سے باہر نکلے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ فرمانا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ثنیہ علیا سے مکّہ مکرّمہ میں داخل ہوئے، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ثنیہ مکّہ مکرّمہ میں داخل نہیں ہے۔ حالانکہ ثنیہ اور اس کے بعد والا علاقہ مکّہ مکرّمہ میں داخل ہے۔ اور کداء اور اس کے بعد والا علاقہ بھی ان علامات تک حرم میں داخل ہے جو علامات حرم اور حل کے حدود ظاہر کرنے کے لئے لگائی گئی ہیں۔ یہ کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکّہ میں مکّہ سے داخل ہوئے؟ چنانچہ اگر ثنیہ اور کدا مکّہ کا حصّہ ہوتے تو ہرگز نہیں کہا جا سکتا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکّہ میں ثنیہ اور کدا سے داخل ہوئے - یہ ممکن ہے کہ دلیل دی جائے کہ سارا حرم مکّہ مکرّمہ میں داخل ہے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بیشک مکہ مکرمہ کو اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق کے دن ہی حرام قرار دے دیا تھا - لہٰذا سارے حرم پر اسم مکّہ کا لفظ بولا جاسکتا ہے - البتہ لوگوں کے ہاں معروف یہ ہے کہ مکّہ مکرّمہ وہ آبادی ہے جس کی عمارات ایک دوسری سے متصل ہیں - کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ فلاں شخص مکّہ سے منیٰ گیا اور منیٰ سے مکّہ مکرّمہ واپس آگیا اور جب تم حج کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث پر غوروفکر کرو گے تو تمہیں اس معنی میں بہت ساری احادیث مل جائیں گی - لیکن عرفات اور حرم کے بعد والے علاقے تو بغیر کسی شک و شبہ کے مکّہ مکرّمہ میں داخل نہیں ہیں ـ اور اس بات کی دلیل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایام تشریق کے تیسرے روز منیٰ سے روانہ ہو گئے تھے ـ (تو درج ذیل حدیث نمبر 962 ہے۔) [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الفريضة فى السفر/حدیث: 961]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1575، 1576، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1257، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 961، 2693، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4468، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2865، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1866، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1969، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2940، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9293، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4715»

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت مشهور
👤←👥عبيد الله بن عمر العدوي، أبو عثمان
Newعبيد الله بن عمر العدوي ← نافع مولى ابن عمر
ثقة ثبت
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← عبيد الله بن عمر العدوي
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة حافظ
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 961 in Urdu