🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
621. (388) باب الرخصة فى الجمع بين الصلاتين فى الحضر فى المطر
حضر میں بارش کی وجہ سے دو نمازوں کو جمع کرنے کی رخصت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 972
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَنَّ مَالِكًا حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ: " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا، وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا، فِي غَيْرِ خَوْفٍ وَلا سَفَرٍ" قَالَ مَالِكٌ: أَرَى ذَلِكَ كَانَ فِي مَطَرٍ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَمْ يَخْتَلِفِ الْعُلَمَاءُ كُلُّهُمْ أَنَّ الْجَمْعَ بَيْنَ الصَّلاتَيْنِ فِي الْحَضَرِ فِي غَيْرِ الْمَطَرِ غَيْرُ جَائِزٍ، فَعَلِمْنَا وَاسْتَيْقَنَّا أَنَّ الْعُلَمَاءَ لا يُجْمِعُونَ عَلَى خِلافِ خَبَرٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَحِيحٌ مِنْ جِهَةِ النَّقْلِ، لا مُعَارِضَ لَهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَخْتَلِفْ عُلَمَاءُ الْحِجَازِ أَنَّ الْجَمْعَ بَيْنَ الصَّلاتَيْنِ فِي الْمَطَرِ جَائِزٌ، فَتَأَوَّلْنَا جَمْعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَضَرِ عَلَى الْمَعْنَى الَّذِي لَمْ يَتَّفِقِ الْمُسْلِمُونَ عَلَى خِلافِهِ، إِذْ غَيْرُ جَائِزٍ أَنْ يَتَّفِقَ الْمُسْلِمُونَ عَلَى خِلافِ خَبَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَرْوُوا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَبَرًا خِلافَهُ، فَأَمَّا مَا رَوَى الْعِرَاقِيُّونَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بِالْمَدِينَةِ فِي غَيْرِ خَوْفٍ وَلا مَطَرٍ، فَهُوَ غَلَطٌ وَسَهْوٌ، وَخِلافُ قَوْلِ أَهْلِ الصَّلاةِ جَمِيعًا، وَلَوْ ثَبَتَ الْخَبَرُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ جَمَعَ فِي الْحَضَرِ فِي غَيْرِ خَوْفٍ وَلا مَطَرٍ لَمْ يَحِلَّ لِمُسْلِمٍ عَلِمَ صِحَّةَ هَذَا الْخَبَرِ أَنْ يَحْظُرَ الْجَمْعَ بَيْنَ الصَّلاتَيْنِ فِي الْحَضَرِ فِي غَيْرِ خَوْفٍ وَلا مَطَرٍ، فَمَنْ يَنْقِلُ فِي رَفْعِ هَذَا الْخَبَرِ بِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ الصَّلاتَيْنِ فِي غَيْرِ خَوْفٍ وَلا سَفَرٍ وَلا مَطَرٍ، ثُمَّ يَزْعُمُ أَنَّ الْجَمْعَ بَيْنَ الصَّلاتَيْنِ عَلَى مَا جَمَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا، غَيْرُ جَائِزٍ، فَهَذَا جَهْلٌ وَإِغْفَالٌ غَيْرُ جَائِزٍ لِعَالِمٍ أَنْ يَقُولَهُ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کر تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلی علیہ وسلم نے نماز ظہر اور عصرکو جمع کر کے پڑھا، اور مغرب وعشاء کو جمع کر کے ادا کیا، بغیر کسی خوف اور سفرکے۔ امام مالک رحمه الله فر ماتے ہیں کہ میرے خیال میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح (نمازوں کو جمع کرنا) بارش کی حالت میں کیا تھا۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ تمام علمائے کرام کا اس بات پر اتّفاق ہے کہ حضر میں بغیر بارش کے دو نمازوں کو جمع کرنا جائز نہیں ہے۔ لہٰذا ہمیں معلوم ہے اور یقین ہے کہ علمائے کرام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح سند سے منقول حدیث کے خلاف نیز اس کی معارض بھی کوئی روایت نہ ہو، اکھٹے نہیں ہوسکتے اور علمائے حجاز کا اس پر اتفاق ہے کہ بارش میں دونمازوں کو جمع کرنا جائز ہے۔ لہٰذا ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حضر میں دو نمازوں کو جمع کرنے کی تاویل اس معنی میں کی ہے جس کے خلاف مسلمانوں کا اتفاق نہیں ہے - کیونکہ یہ ناممکن ہے کہ مسلمانوں کا اتفاق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے خلاف ہو جائے حالانکہ اس حدیث کے خلاف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بھی مروی نہ ہو - اور وہ روایت جو اہل عراق نے بیان کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منوّرہ میں بغیر خوف اور بارش کے دونمازوں کو جمع کیا ہے تو وہ غلط اور سہو ہے اور تمام مسلمانوں کے قول کے مخالف ہے اور اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث ثابت ہو جائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضر میں بغیر کسی خوف اور بارش کے دو نمازوں کو جمع کیا ہے تو جو مسلمان اس حدیث کی صحت کے بارے میں جان لے، اس کے لئے حلال اور جائز نہیں کہ وہ حضر میں بغیر کسی خوف اور بارش کے دو نمازوں کو جمع کرنا ممنوع قرار دے ـ لہٰذا جو شخص یہ مرفوع حدیث بیان کرے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بغیر کسی خوف، سفر اور بارش کے دو نمازوں کو جمع کیا ہے پھر وہ یہ دعویٰ کرے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دو نمازوں کو جمع کرنے کے طریقے کے مطابق دو نمازیں جمع کرنا جائز نہیں ہے تو یہ جہالت اور غفلت ہے، کسی عالم کو ذیب نہیں دیتا کہ ایسی بات کہے ـ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الفريضة فى السفر/حدیث: 972]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 543، 562، 1174، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 705، ومالك فى (الموطأ) برقم: 480، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 967، 971، 972، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1596، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 588، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1210، 1211، 1214، والترمذي فى (جامعه) برقم: 187، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1069، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5614، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1450، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1899»

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥سعيد بن جبير الأسدي، أبو محمد، أبو عبد الله
Newسعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن مسلم القرشي، أبو الزبير
Newمحمد بن مسلم القرشي ← سعيد بن جبير الأسدي
صدوق إلا أنه يدلس
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله
Newمالك بن أنس الأصبحي ← محمد بن مسلم القرشي
رأس المتقنين وكبير المتثبتين
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← مالك بن أنس الأصبحي
ثقة حافظ
👤←👥يونس بن عبد الأعلي الصدفي، أبو موسى
Newيونس بن عبد الأعلي الصدفي ← عبد الله بن وهب القرشي
ثقة
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 972 in Urdu