🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
75. ‏(‏75‏)‏ باب الأمر بإهراق الماء الذى ولغ فيه الكلب،
جس پانی میں کُتّا منہ ڈال دے اسے بہانے اور برتن کو دھونے کا حکم ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q98
وَغَسْلِ الْإِنَاءِ مِنْ وُلُوغِ الْكَلْبِ «وَفِيهِ دَلِيلٌ عَلَى نَقْضِ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ الْمَاءَ طَاهِرٌ، وَالْأَمْرُ بِغَسْلِ الْإِنَاءِ تَعَبُّدٌ، إِذْ غَيْرُ جَائِزٍ أَنْ يَأْمُرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَرَاقَةِ مَاءٍ طَاهِرٍ غَيْرِ نَجِسٍ»
اس میں ان علماء کے موقف کے خلاف دلیل ہے جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ پانی پاک ہے اور برتن کو دھونا تعبدی امر ہے، کیونکہ یہ ناممکن ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پاک، غیر نجس پانی کو بہانے (اور ضائع) کرنے کا حکم دیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الماء الذي لا ينجس، والذي ينجس إذا خالطته نجاسة/حدیث: Q98]
 
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 98
نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْخَلِيلِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَلِيٍّ ، أَخْبَرَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ ، وَأَبِي صالح ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ، فَلْيُهْرِقْهُ وَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ" . " وَإِذَا انْقَطَعَ شِسْعُ أَحَدِكُمْ، فَلا يَمْشِ فِيهِ حَتَّى يُصْلِحَهُ"
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی شخص کے برتن میں کُتّا منہ ڈال کر پی لے تو اُسے چاہیے کہ اُس (مشروب) کو بہا دے، اور اُسے اُس برتن کو سات مرتبہ دھونا چاہیئے، اور جب تم میں سے کسی (کے جوتے) کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ اس (جوتے) میں نہ چلے حتیٰ کہ اسے مرمّت کروا لے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الماء الذي لا ينجس، والذي ينجس إذا خالطته نجاسة/حدیث: 98]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 172، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 279، ومالك فى (الموطأ) برقم: 90، وابن الجارود فى "المنتقى"، 55، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 95، 96، 97، 98، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1294، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 573، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 63، وأبو داود فى (سننه) برقم: 71، والترمذي فى (جامعه) برقم: 91، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 363، 364، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 59، والدارقطني فى (سننه) برقم: 181، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7463»
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥أبو صالح السمان، أبو صالح
Newأبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي
ثقة ثبت
👤←👥مسعود بن مالك الأسدي، أبو رزين
Newمسعود بن مالك الأسدي ← أبو صالح السمان
ثقة
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← مسعود بن مالك الأسدي
ثقة حافظ
👤←👥علي بن مسهر القرشي، أبو الحسن
Newعلي بن مسهر القرشي ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة
👤←👥إسماعيل بن الخليل الخزاز، أبو عبد الله
Newإسماعيل بن الخليل الخزاز ← علي بن مسهر القرشي
ثقة
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله
Newمحمد بن يحيى الذهلي ← إسماعيل بن الخليل الخزاز
ثقة حافظ جليل
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 98 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ : 98
فوائد:
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ جس برتن میں کتا منہ ڈال دے، اس میں موجود مشروب اور برتن دونوں نجس ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ اس برتن کو سات مرتبہ دھونے اور مشروب کو گرانا اس بات کی قوی دلیل ہے کہ وہ مشروب اور برتن نجس ہو چکے ہیں، نیز یہ احادیث اس موقف کی قوی دلیل ہیں کہ دو مٹکوں سے کم پانی میں محض نجاست گرنے سے وہ پانی نجس ہو جاتا ہے۔
➋ یہ حدیث دلیل ہے کہ جس برتن میں کتا منہ ڈالے اس ناپاک برتن کو سات مرتبہ دھونا واجب ہے، شافعی، احمد اور جمہور علماء کا یہی مذہب ہے لیکن ابو حنیفہ کہتے ہیں:
ایسے برتن کو تین بار دھونا کافی ہے۔
نووی بیان کرتے ہیں: مٹی سے دھونے کا مقصد یہ ہے کہ پانی میں مٹی ملائی جائے کہ وہ گدلا ہو جائے اور پانی میں مٹی ڈالنے۔ مٹی پر پانی ڈالنے یا کسی جگہ سے گدلا پانی لے کر برتن دھونے میں کوئی فرق نہیں (برتن کی طہارت کے لیے یہ تمام صورتیں درست ہیں) لیکن نجاست کی جگہ پر محض مٹی ملنا کافی نہیں۔ نیز اس حدیث میں یہ بھی دلیل ہے کہ قلیل پانی میں محض نجاست گرنے سے وہ پانی نجس ہو جاتا ہے، خواہ اس کا کوئی وصف تبدیل نہ ہی ہو۔ کیونکہ کتے کا برتن میں منہ ڈالنے سے غالباً پانی کا کوئی وصف تبدیل نہیں ہوتا۔
[عون المعبود: 84/1]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 98]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 98 in Urdu