صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
635. (402) باب ذكر العلة التى لها أمر النبى صلى الله عليه وسلم أصحابه بالارتحال وترك الصلاة فى ذلك المكان
اس علت و سبب کا بیان جس کی بنا پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو اس جگہ سے کوچ کرنے اور وہاں نماز نہ پڑھنے کا حُکم دیا
حدیث نمبر: 988
نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: أَعْرَسْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نَسْتَيْقِظْ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِيَأْخُذْ كُلُّ إِنْسَانٍ بِرَأْسِ رَاحِلَتِهِ ؛ فَإِنَّ هَذَا مَنْزِلا حَضَرَنَا فِيهِ الشَّيْطَانُ، فَفَعَلْنَا فَدَعَا بِالْمَاءِ، فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ صَلَّى سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلاةُ صَلاةَ الْغَدَاةِ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رات کے آخری پہر آرام کے لئے پڑاؤ ڈالا تو ہم سورج طلوع ہونے کے بعد ہی بیدار ہوئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر شخص اپنی سواری کی نکیل پکڑ لے (اور چل پڑے) کیونکہ اس جگہ ہمارے پاس شیطان آگیا ہے۔“ (جس سے ہماری نماز رہ گئی ہے) لہٰذا ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حُکم کی تعمیل کی۔ (کچھ دور جا کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوا کر وضو کیا، پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر نماز کی اقامت کہی گئی یعنی صبح کی نماز کے لئے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 988]
تخریج الحدیث:
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥سلمان مولى عزة، أبو حازم سلمان مولى عزة ← أبو هريرة الدوسي | ثقة | |
👤←👥يزيد بن كيسان اليشكري، أبو إسماعيل، أبو منين يزيد بن كيسان اليشكري ← سلمان مولى عزة | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد يحيى بن سعيد القطان ← يزيد بن كيسان اليشكري | ثقة متقن حافظ إمام قدوة | |
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر محمد بن بشار العبدي ← يحيى بن سعيد القطان | ثقة حافظ |
سلمان مولى عزة ← أبو هريرة الدوسي