🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
202. باب الصلاة في الرحال في المطر
باب: بارش میں گھروں میں نماز پڑھنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 404
404 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ أَذَّنَ بِالصَّلاَةِ فِي لَيْلَةٍ ذَاتِ بَرْدٍ وَرِيحِ، ثُمَّ قَالَ: أَلاَ صَلُّوا فِي الرِّحَالِ ثُمَّ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُ الْمُؤَذِّنَ، إِذَا كَانَتْ لَيْلَةٌ ذاتُ بَرْدٍ وَمَطَرٍ، يَقُولُ: أَلاَ صَلُّوا فِي الرِّحَالِ
سیدنا نافع رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ سیّدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک ٹھنڈی اور برسات کی رات میں اذان دی، پھر یوں پکار کر کہہ دیا کہ لوگو اپنی قیام گاہوں پر ہی نماز پڑھ لو، پھر فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سردی و بارش کی راتوں میں مؤذن کو حکم دیتے تھے کہ وہ اعلان کر دے کہ ”لوگو اپنی قیام گاہوں پر ہی نماز پڑھ لو“۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 404]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 40 باب الرخصة في المطر والعلة، أن يصلي في رحله»
وضاحت: حدیث میں مذکور برد سے سخت سردی مراد ہے، مشقت کے یکساں موجود ہونے کی وجہ سے سخت گرمی بھی سردی کے حکم میں ہے۔ پھر بارش خواہ دن کو ہو یا رات کو حکم برابر ہے۔ لیکن آندھی تیز ہونے اور رات کے وقت چلنے کی شرط لگائی گئی ہے کیونکہ دن کی نسبت رات میں آندھی سے مشقت بڑھ جاتی ہے۔ سیّدنا ابن عمر رضی اللہ عنہمانے مشقت کو عموم پر محلول کرتے ہوئے آندھی کو بارش پر قیاس کیا ہے۔ گھروں میں نماز کی رخصت عام ہے خواہ اکیلے ادا ہو یا جماعت اگرچہ اکیلے کا امکان زیادہ ہے کیونکہ باجماعت نماز کا تعلق تو مسجد سے ہے۔

الحكم على الحديث:
«صحیح»


Al-Lulu wal-Marjan Hadith 404 in Urdu