🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
202. باب الصلاة في الرحال في المطر
باب: بارش میں گھروں میں نماز پڑھنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 405
405 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لِمُؤَذِّنِهِ فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ: إِذَا قُلْتَ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ فَلاَ تَقُلْ حَيَّ عَلَى الصَّلاَةِ، قُلْ صَلُّوا فِي بُيوتِكُمْ فَكَأَنَّ النَّاسَ اسْتَنْكَرُوا، قَالَ: فَعَلَهُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي، إِنَّ الْجُمُعَةَ عَزْمَةٌ، وَإِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أُحْرِجَكُمْ فَتَمْشُونَ فِي الطِّينِ وَالدَّحْضِ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے مؤذن سے ایک دفعہ بارش کے دن کہا کہ «أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللّٰهِ» کے بعد «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ» ”نماز کی طرف آؤ“ نہ کہنا بلکہ یہ کہنا کہ «صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ» ”اپنے گھروں میں نماز پڑھ لو“، لوگوں نے اس بات پر تعجب کیا تو آپ نے فرمایا کہ اسی طرح مجھ سے بہتر انسان (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) نے کیا تھا، بے شک جمعہ فرض ہے اور میں مکروہ جانتا ہوں کہ تمہیں گھروں سے نکال کر مٹی اور کیچڑ (پھسلن) میں چلاؤں۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 405]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 11 كتاب الجمعة: 14 باب الرخصة لمن لم يحضر الجمعة في المطر»
وضاحت: سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہماکا مطلب یہ تھا کہ بے شک جمعہ فرض ہے مگر حالت بارش میں یہ عزیمت رخصت سے بدل جاتی ہے۔ لہٰذا کیوں نہ اس رخصت سے تم کو فائدہ پہنچاؤں کہ تم کیچڑ میں پھسلنے اور بارش میں بھیگنے سے بچ جاؤ۔(راز)

الحكم على الحديث:
«صحیح»


Al-Lulu wal-Marjan Hadith 405 in Urdu