اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
401. باب الإفاضة من عرفات إِلى المزدلفة، واستحباب صلاتي المغرب والعشاء جمعا بالمزدلفة في هذه الليلة
باب: عرفات سے مزدلفہ لوٹنا اور اسی رات مغرب وعشاء جمع کرنا
حدیث نمبر: 807
807 صحيح حديث أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: دَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِالشِّعْبِ نَزَلَ فَبَالَ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَلَمْ يُسْبِغِ الْوُضُوءَ، فَقُلْتُ الصَّلاَةَ يَا رَسُولَ اللهِ فَقَالَ: الصَّلاَةُ أَمَامَكَ فَرَكِبَ، فَلَمَّا جَاءَ الْمُزْدَلِفَةَ، نَزَلَ فَتَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضوءَ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلاَة، فَصَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ أَنَاخَ كُلُّ إِنْسَانٍ بَعِيرَهُ فِي مَنْزِلِهِ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الْعِشَاءُ فَصَلَّى وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میدانِ عرفات سے واپس ہوئے، جب گھاٹی میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اتر گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (پہلے) پیشاب کیا، پھر وضو کیا اور خوب اچھی طرح نہیں کیا، تب میں نے کہا: یا رسول اللہ! نماز کا وقت (آ گیا)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز تمہارے آگے ہے“ (یعنی مزدلفہ چل کر پڑھیں گے)، جب مزدلفہ میں پہنچے تو آپ نے خوب اچھی طرح وضو کیا، پھر جماعت کھڑی کی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی نماز پڑھی، پھر ہر شخص نے اپنے اونٹ کو اپنی جگہ بٹھلایا، پھر عشاء کی جماعت کھڑی کی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور ان دونوں نمازوں کے درمیان کوئی نماز نہیں پڑھی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 807]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 4 كتاب الوضوء: 6 باب إسباغ الوضوء»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 807 in Urdu