اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
401. باب الإفاضة من عرفات إِلى المزدلفة، واستحباب صلاتي المغرب والعشاء جمعا بالمزدلفة في هذه الليلة
باب: عرفات سے مزدلفہ لوٹنا اور اسی رات مغرب وعشاء جمع کرنا
حدیث نمبر: 808
808 صحيح حديث أُسَامَةَ عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ: سُئِلَ أُسَامَةُ وَأَنَا جَالِسٌ، كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ حِينَ دَفَعَ قَالَ: كَانَ يَسِيرُ الْعَنَقَ، فَإِذَا وَجَدَ فَجْوَةً نَصَّ
عروہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے کسی نے پوچھا اور میں بھی وہیں موجود تھا کہ حجۃ الوداع کے موقع پر عرفات سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واپس ہونے کی چال کیا تھی؟ انہوں نے جواب دیا کہ آپ پاؤں اٹھا کر چلتے تھے ذرا تیز، لیکن جب جگہ پاتے (ہجوم نہ ہوتا) تو (زیادہ) تیز چلتے تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 808]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في:25 كتاب الحج: 92 باب السير إذا دفع من عرفة»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 808 in Urdu