علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
کس کی دی ہوئی امان معتبر ہے اور دستے کا لشکر کی طرف لوٹنا
حدیث نمبر: 1052
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ مَكَّةَ، قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا، فَقَالَ:" أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّهُ مَا كَانَ مِنْ حِلْفٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَإِنَّ الإِسْلامَ لَمْ يَزِدْهُ إِلا شِدَّةً، وَلا حِلْفَ فِي الإِسْلامِ، وَالْمُسْلِمُونَ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ يُجِيرُ عَلَيْهِمْ أَدْنَاهُمْ، وَيَرُدُّ عَلَيْهِمْ أَقْصَاهُمْ، وَتُرَدُّ سَرَايَاهُمْ عَلَى قَاعِدِهِمْ، وَلا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ، دِيَةُ الْكَافِرِ نِصْفُ دِيَةِ الْمُؤْمِنِ، لا جَلَبَ، وَلا جَنَبَ، وَلا تُؤْخَذُ صَدَقَاتُهُمْ إِلا فِي دُورِهِمْ" .
سیدنا عبد الله بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے سال جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو آپ نے کھڑے ہو کر ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا: اے لوگو! زمانہ جاہلیت میں اگر کوئی (امن و امان وغیرہ کا) معاہدہ تھا تو اسلام نے اسے تقویت پہنچائی ہے، اسلام میں کوئی حلف نہیں ہے، مخالفین کے مقابلے میں مسلمان ایک دوسرے کی مدد کریں، ان میں سے ادنیٰ مسلمان بھی پناہ دے سکتا ہے، اسی طرح دور کا رہائشی بھی پناہ کو توڑ سکتا ہے اور جو فوجی دستہ بڑے لشکر سے الگ ہو کر کسی مہم پر جائے تو وہ اپنے اس بڑے لشکر کو بھی مال غنیمت میں شریک کرے، کسی مؤمن کو کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے، کافر کی دیت مؤمن کی دیت سے آدھی ہے، جلب ہے نہ جب بلکہ زکوٰۃ لوگوں کی جائے رہائش سے ہی لی جائے۔ (جلب کا معنی ہے کہ مصدق دفتر میں بیٹھ کر زکوٰۃ وصول کرے اور جب یہ ہے کہ زکوٰۃ دینے والے اپنے مال کو اصل مقام سے کہیں دور لے جائیں۔) [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1052]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 3/180، سنن أبي داود: 4583، سنن النسائي: 8410-8411، سنن ابن ماجه: 2644، اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (2280) نے صحیح کہا ہے۔ محمد بن اسحاق نے سماع کی تصریح کر رکھی ہے، عبدالرحمن بن حارث نے مسند الامام احمد (2/215) میں اس کی متابعت کر رکھی ہے۔ یہ روایت نمبر 345 میں گزر چکی ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن
الرواة الحديث:
Al-Muntaqa Ibn al-Jarud Hadith 1052 in Urdu
شعيب بن محمد السهمي ← عبد الله بن عمرو السهمي