Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (1114)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
کس کی دی ہوئی امان معتبر ہے اور دستے کا لشکر کی طرف لوٹنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1052
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ مَكَّةَ، قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا، فَقَالَ:" أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّهُ مَا كَانَ مِنْ حِلْفٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَإِنَّ الإِسْلامَ لَمْ يَزِدْهُ إِلا شِدَّةً، وَلا حِلْفَ فِي الإِسْلامِ، وَالْمُسْلِمُونَ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ يُجِيرُ عَلَيْهِمْ أَدْنَاهُمْ، وَيَرُدُّ عَلَيْهِمْ أَقْصَاهُمْ، وَتُرَدُّ سَرَايَاهُمْ عَلَى قَاعِدِهِمْ، وَلا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ، دِيَةُ الْكَافِرِ نِصْفُ دِيَةِ الْمُؤْمِنِ، لا جَلَبَ، وَلا جَنَبَ، وَلا تُؤْخَذُ صَدَقَاتُهُمْ إِلا فِي دُورِهِمْ" .
سیدنا عبد الله بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے سال جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو آپ نے کھڑے ہو کر ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا: اے لوگو! زمانہ جاہلیت میں اگر کوئی (امن و امان وغیرہ کا) معاہدہ تھا تو اسلام نے اسے تقویت پہنچائی ہے، اسلام میں کوئی حلف نہیں ہے، مخالفین کے مقابلے میں مسلمان ایک دوسرے کی مدد کریں، ان میں سے ادنیٰ مسلمان بھی پناہ دے سکتا ہے، اسی طرح دور کا رہائشی بھی پناہ کو توڑ سکتا ہے اور جو فوجی دستہ بڑے لشکر سے الگ ہو کر کسی مہم پر جائے تو وہ اپنے اس بڑے لشکر کو بھی مال غنیمت میں شریک کرے، کسی مؤمن کو کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے، کافر کی دیت مؤمن کی دیت سے آدھی ہے، جلب ہے نہ جب بلکہ زکوٰۃ لوگوں کی جائے رہائش سے ہی لی جائے۔ (جلب کا معنی ہے کہ مصدق دفتر میں بیٹھ کر زکوٰۃ وصول کرے اور جب یہ ہے کہ زکوٰۃ دینے والے اپنے مال کو اصل مقام سے کہیں دور لے جائیں۔) [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1052]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 3/180، سنن أبي داود: 4583، سنن النسائي: 8410-8411، سنن ابن ماجه: 2644، اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (2280) نے صحیح کہا ہے۔ محمد بن اسحاق نے سماع کی تصریح کر رکھی ہے، عبدالرحمن بن حارث نے مسند الامام احمد (2/215) میں اس کی متابعت کر رکھی ہے۔ یہ روایت نمبر 345 میں گزر چکی ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمرو السهمي، أبو محمد، أبو نصر، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥شعيب بن محمد السهمي
Newشعيب بن محمد السهمي ← عبد الله بن عمرو السهمي
صدوق حسن الحديث
👤←👥عمرو بن شعيب القرشي، أبو إبراهيم، أبو عبد الله
Newعمرو بن شعيب القرشي ← شعيب بن محمد السهمي
ثقة
👤←👥ابن إسحاق القرشي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newابن إسحاق القرشي ← عمرو بن شعيب القرشي
صدوق مدلس
👤←👥أحمد بن خالد الوهبي، أبو سعيد
Newأحمد بن خالد الوهبي ← ابن إسحاق القرشي
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله
Newمحمد بن يحيى الذهلي ← أحمد بن خالد الوهبي
ثقة حافظ جليل