المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
غنیمت میں خیانت کرنے والے پر سخت وعید اور خمس کا مصرف
حدیث نمبر: 1080
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الأَعْلَى ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: ثني عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رُدُّوا رِدَائِي، رُدُّوا رِدَائِي، فَوَاللَّهِ لَوْ كَانَ عِنْدِي عَدَدُ شَجَرِ تِهَامَةَ نَعَمًا لَقَسَمْتُهُ بَيْنَكُمْ، وَمَا أَلْفَيْتُمُونِي بَخِيلا وَلا جَبَانًا وَلا كَذُوبًا، ثُمَّ قَامَ إِلَى جَنْبِ بَعِيرٍ فَأَخَذَ مِنْ سَنَامِهِ وَبَرَةً، فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّهُ لَيْسَ لِي مِنْ فَيْئِكُمْ مثل هَذِهِ إِلا الْخُمُسَ، وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ عَلَيْكُمْ، فَأَدُّوا الْخَيْطَ وَالْمَخِيطَ، فَإِنَّ الْغُلُولَ يَكُونُ عَلَى صَاحِبِهِ عَارًا وَنَارًا وَشَنَارًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ بِكُبَّةٍ مِنْ خُيُوطِ شَعَرٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَخَذْتُ هَذِهِ لأُخِيطَ بِهَا بُرْدَةَ بَعِيرٍ لِي دَبَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَّا مَا كَانَ لِي فَهُوَ لَكَ، قَالَ أَمَّا إِذَا بَلَغْتُ هَذَا فَلا حَاجَةَ لِي فِيهِ" .
سیدنا عبد الله بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: میری چادر واپس کر دیں، میری چادر واپس کر دیں، الله کی قسم! اگر میرے پاس تہامہ کے درختوں کے بقدر اونٹ ہوتے تو میں آپ کے درمیان تقسیم کر دیتا اور آپ مجھے بخیل، بزدل اور جھوٹا نہ پاتے۔ پھر ایک اونٹ کے پاس کھڑے ہوئے اور اس کی کوہان سے ایک بال لے کر فرمانے لگے: لوگو! آپ کی غنیمتوں سے خمس کے علاوہ اتنا بھی میرے لیے جائز نہیں اور خمس بھی آپ کی طرف ہی لوٹا دیا جاتا ہے، چنانچہ سوئی اور دھاگے تک ادا کر دیں، کیونکہ خیانت قیامت کے روز خائن کے لیے عار، جہنم اور رسوائی کا ذریعہ ہوگی۔ ایک انصاری بالوں کی رسی کا گچھا لے کر آیا اور کہنے لگا: الله کے رسول! میں نے یہ رسی اپنے اونٹ کی چادر سینے کے لیے لی تھی، تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: میرے حصے کی رسی آپ کو دے دی۔ (باقیوں کا میں ذمہ دار نہیں) وہ کہنے لگا: اگر معاملہ اس قدر سخت ہے تو پھر مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1080]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 2/184، سنن أبي داود: 2694، سنن النسائي: 3718، 2694»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن
الرواة الحديث:
Al-Muntaqa Ibn al-Jarud Hadith 1080 in Urdu
شعيب بن محمد السهمي ← عبد الله بن عمرو السهمي