المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حیض (ماہواری) کے احکام کا بیان
عبد الرحمن رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ شعبہ رحمہ اللہ نے اس حدیث کو مرفوع بیان نہ کیا، تو کسی نے ان سے کہا: آپ تو اس حدیث کو مرفوع بیان کیا کرتے تھے (اب کیوں نہیں کرتے؟) فرمایا: پہلے میں مجنون تھا، اب ٹھیک ہو گیا ہوں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطهارة/حدیث: 110]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: امام شعبه رحمہ اللہ كے اس قول پر تبصره كرتے هوئے حافظ ابن القطان الفاسي رحمہ اللہ فرماتے هيں: نَظُنُّ أَنَّهُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَمَّا أَكْثَرَ عَلَيْهِ فِي رَفْعِهِ إِيَّاهُ، تَوَفَّى رَفْعَهُ لَا لِأَنَّهُ مَوْقُوفٌ، لَكِنَّ إِبْعَادًا لِلظَّنَّةِ عَنْ نَفْسِهِ، وَأَبْعَدَ مِنْ هَذَا الْإِحْتِمَالِ أَنْ يَكُونَ شَكٍّ فِي رَفْعِهِ فِي ثَانَيْ حَالٍ فَوَقَفَهُ، فَإِنْ كَانَ هذَا فَلَا نُبَالِي ذَلِكَ أَيْضًا، بَلْ لَوْ نَسِيَ الْحَدِيثَ بَعْدَ أَن حَدَّتَ بِهِ لَمْ يَضُرَّهُ، فَإِنْ أَبَيْتَ إِلَّا أَن يَكُونَ شُعْبَةُ رَجَعَ عَنْ رَفْعِهِ، فَاعْلَمْ أَنَّ غَيْرَهُ مِنْ أَهْلِ الثَّقَةِ وَالْأَمَانَةِ أَيْضًا قَدْ رَوَاهُ عَنِ الْحَكَمِ مَرْفُوعًا كَمَا رَوَاهُ شُعْبَةُ فِيمَا تَقَدَّمَ وَهُوَ عَمْرُو بْنُ قَيْسٍ الْمَلَائِيُّ، وَهُوَ ثِقَةٌ . بيان الوهم والايهام: 279/5»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح
Al-Muntaqa Ibn al-Jarud Hadith 110 in Urdu