المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حیض (ماہواری) کے احکام کا بیان
حدیث نمبر: 113
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ صَخْرِ بْنِ جُوَيْرِيَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ رَجُلٌ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تُهَرَاقُ دَمًا لا يَفْتُرُ عَنْهَا فَسَأَلَتْ أُمُّ سَلَمَةَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " لِتَنْظُرْ عِدَّةَ الأَيَّامِ وَاللَّيَالِي الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُ قَبْلَ ذَلِكَ وَعَدَدَهُنَّ فَلْتَتْرُكِ الصَّلاةَ قَدْرَ ذَلِكَ ثُمَّ إِذَا حَضَرَتِ الصَّلاةُ فَلْتَغْتَسِلْ وَلْتَسْتَثْفِرْ بِثَوْبٍ وَتُصَلِّي" ، قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ: وَهَكَذَا قَالَ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، وَقَالَ مَالِكٌ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَغَيْرُهُمْ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، وَقَالَ أَيُّوبُ: عَنْ سُلَيْمَانَ نَفْسِهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ.
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک عورت کو بہت زیادہ (استحاضہ) خون آتا تھا، جو رکتا ہی نہیں تھا۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس (بیماری) سے پہلے جتنے دن اسے حیض آتا تھا، انہیں شمار کر لے اور اتنے دن نماز چھوڑ دے، ان کے بعد جب نماز کا وقت آئے، تو غسل کر کے لنگوٹ باندھ لے اور نماز پڑھے۔ ابو محمد کہتے ہیں: موسی بن عقبہ اور لیث بن سعد نے بھی سلیمان اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے درمیان ایک آدمی کا واسطہ ذکر کیا ہے، جب کہ مالک، عبید اللہ اور یحیی نے سلیمان اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے درمیان واسطہ ذکر نہیں کیا، ایوب نے نافع کا واسطہ بھی ذکر نہیں کیا بل کہ ”عن سلیمان عن ام سلمہ“ کے الفاظ سے بیان کیا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطهارة/حدیث: 113]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف لأنه منقطع: مؤطأ الإمام مالك: 62/1، مسند الإمام أحمد: 320/6، سنن أبى داود: 274، سنن النسائي: 209، سليمان بن يسار نے سيده ام سلمه رضی اللہ عنہا سے سماع نهيں كيا، نيز ”رجل“ نامعلوم هے، اس حديث كے بهت سارے شواهد هيں، صحيح مسلم: 333، كي حديث اس سے مستغني كر ديتي هے.»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده ضعيف لأنه منقطع
الرواة الحديث:
Al-Muntaqa Ibn al-Jarud Hadith 113 in Urdu
اسم مبهم ← أم سلمة زوج النبي