🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (1114)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

29. باب الحيض
حیض (ماہواری) کے احکام کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 101
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَنَّ إِسْمَاعِيلَ بْنَ عُلَيَّةَ ، أَخْبَرَهُمْ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ ، قَالَتْ: سَأَلْتِ امْرَأَةٌ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: " أَتَقْضِي الْحَائِضُ الصَّلاةَ؟ فَقَالَتْ: أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ، قَدْ كُنَّا نَحِيضُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلا نَقْضِي وَلا نُؤْمَرُ بِالْقَضَاءِ" .
معاذہ عدویہ رحمہ اللہ بیان کرتی ہیں کہ ایک خاتون نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا حائضہ (فوت شدہ) نمازوں کی قضا دے گی؟ فرمایا: آپ حروریہ (کوفہ کے قریب خوارج کی بستی)، تو نہیں؟ ہمیں بھی عہد نبوی میں حیض آتا تھا، نہ تو ہم نمازوں کی قضا دیتیں اور نہ ہی ہمیں قضا کا حکم دیا جاتا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 101]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 321، صحيح مسلم: 335»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
متفق عليه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 102
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالا: ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ" وَهِيَ حَائِضٌ، قَالَتْ: إِنِّي حَائِضٌ، قَالَ: إِنَّهَا لَيْسَتْ فِي يَدِكِ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے (مسجد سے) چھوٹی چٹائی پکڑا دیں، عرض کیا: میں حائضہ ہوں، فرمایا: حیض آپ کے ہاتھ سے تو نہیں لگا ہوا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 102]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 298»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 103
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمِّهِ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، تَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَضَعُ رَأْسَهُ فِي حِجْرِ إِحْدَانَا وَهِيَ حَائِضٌ فَيَتْلُو الْقُرْآنَ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے کسی (بیوی) کی گود میں سر رکھ کر قرآن پڑھا کرتے تھے، حالاں کہ وہ حائضہ ہوتی تھی۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 103]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 297، صحيح مسلم: 301»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
متفق عليه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 104
حَدَّثَنَا ابْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ: ثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُدْنِي إِلَيَّ رَأْسَهُ وَهُوَ مُجَاوِرٌ فَأَغْسِلُهُ وَأُرَجِّلُهُ وَأَنَا فِي حُجْرَتِي وَأَنَا حَائِضٌ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حالت اعتکاف میں مسجد سے اپنا سر میرے نزدیک کر دیتے تھے، میں اپنے حجرہ میں ہوا کرتی تھی تو میں آپ کا سر دھو دیتی اور کنگھی کر دیتی تھی، حالاں کہ میں حائضہ ہوتی تھی۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 104]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 295، صحيح مسلم: 9/297»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
متفق عليه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 105
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثَنَا بِهِ سُفْيَانُ ، مَرَّةً أُخْرَى، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَ: ذُكِرَ لَهَا، فَقَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " أَخْرِجُوا الْعَوَاتِقَ وَذَوَاتِ الْخُدُورِ لِيَشْهَدْنَ الْعِيدَ وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ وَلْيَجْتَنِبْنَ الْحُيَّضُ مُصَلَّى الْمُسْلِمِينَ" .
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جوان کنواری لڑکیوں اور پردہ نشین عورتوں کو بھی نکا لو، کہ وہ نمازِ عید اور مسلمانوں کی دعا میں شامل ہوں، تاہم حائضہ مسلمانوں کی عید گاہ سے دور رہیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 105]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 974، صحيح مسلم: 10/890»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
متفق عليه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 106
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " كُنْتُ إِذَا حِضْتُ أَمَرَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَّزِرُ، فَكَانَ يُبَاشِرُنِي" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب میں حائضہ ہوتی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے تہبند باندھنے کا حکم دیتے، پھر میرے ساتھ لیٹ جاتے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 106]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 299-300، صحيح مسلم: 293»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
متفق عليه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 107
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حَكِيمٍ الأَثْرَمِ ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أَتَى كَاهِنًا فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ أَوْ أَتَى امْرَأَةً فِي دُبُرِهَا أَوْ أَتَى امْرَأَةً وَهِيَ حَائِضٌ فَقَدْ بَرِئَ بِمَا أنزل اللَّهُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کاہن (غیب دان) کے پاس جائے اور اس کی باتوں کی تصدیق کرے، یا بیوی سے دبر میں جماع کرے، یا بیوی سے ایام حیض میں جماع کرے، تو اس کا اس دین سے کوئی تعلق نہیں، جو محمد (کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) پر نازل ہوا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 107]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف: اس روايت كے بارے ميں امام بخاري هم الله فرماتے هيں: هَذَا حَدِيثُ لَّا يُتَابَعُ عَلَيْهِ وَلَا يُعْرَفُ لِأَبِي تَ مِيمَةَ سَمَاعٌ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي الْبِصْرِيِّينَ [التاريخ الكبير: 17,16/3] حافظ ابوبكر بزار رحمه الله نے اسے ”منكر“ كها هے. [تهذيب التهذيب لابن حجر: 452/2، التلخيص الحبير لابن حجر: 180/3] اس حديث كے شواهد بهي هيں.»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنی حائضہ بیوی سے جماع کرے، وہ ایک دینار یا نصف دینار صدقہ کرے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 108]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: سنن أبى داود: 264، سنن النسائي: 290، سنن الترمذي: 136، سنن ابن ماجه: 640، مسند الإمام أحمد: 229/1 - 230، اس كو امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ مسائل ابي داؤد لاحمدص: 177، امام ابو داود رحمہ اللہ: 268، تهذيب السنن لابن القيم: 173/1، امام حاكم رحمہ اللہ: 171/1 - 172، حافظ ابن القطان رحمہ اللہ: بيان الوهم والا يهام: 227/5، حافظ ذهبي رحمہ اللہ: تلخيص المستدرك: 172/1، امام ابن دقيق العيد رحمہ اللہ: التلخيص الحبير لابن حجر: 166/1، اور حافظ ابن القيم رحمہ اللہ تهذيب السنن: 173/1 علامه ابن تركماني حنفي رحمہ اللہ: الجوهر النقي: 1/ 314، اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ: التلخيص الحبير: 166/1، نے ”صحيح“ كہا هے»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ روایت مذکور ہے۔ شعبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: فلاں شخص کہتا ہے، حکم بن عتیبہ رحمہ اللہ نے اس روایت کو مرفوع بیان نہیں کیا۔ شعبہ رحمہ اللہ سے کسی نے کہا: فلاں فلاں کی بات چھوڑیے اور جو سنا ہے، ہمیں بیان کر دیجیے، فرمایا: اگر مجھے اس حدیث کو بیان کرنے، یا نہ کرنے کے عوض دنیا میں عمرِ نوح (علیہ السلام) بھی مل جائے، تو بھی مجھے خوشی نہ ہو گی۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 109]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح: انظر ما قبله»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح انظر ما قبله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
عبد الرحمن رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ شعبہ رحمہ اللہ نے اس حدیث کو مرفوع بیان نہ کیا، تو کسی نے ان سے کہا: آپ تو اس حدیث کو مرفوع بیان کیا کرتے تھے (اب کیوں نہیں کرتے؟) فرمایا: پہلے میں مجنون تھا، اب ٹھیک ہو گیا ہوں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 110]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: امام شعبه رحمہ اللہ كے اس قول پر تبصره كرتے هوئے حافظ ابن القطان الفاسي رحمہ اللہ فرماتے هيں: نَظُنُّ أَنَّهُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَمَّا أَكْثَرَ عَلَيْهِ فِي رَفْعِهِ إِيَّاهُ، تَوَفَّى رَفْعَهُ لَا لِأَنَّهُ مَوْقُوفٌ، لَكِنَّ إِبْعَادًا لِلظَّنَّةِ عَنْ نَفْسِهِ، وَأَبْعَدَ مِنْ هَذَا الْإِحْتِمَالِ أَنْ يَكُونَ شَكٍّ فِي رَفْعِهِ فِي ثَانَيْ حَالٍ فَوَقَفَهُ، فَإِنْ كَانَ هذَا فَلَا نُبَالِي ذَلِكَ أَيْضًا، بَلْ لَوْ نَسِيَ الْحَدِيثَ بَعْدَ أَن حَدَّتَ بِهِ لَمْ يَضُرَّهُ، فَإِنْ أَبَيْتَ إِلَّا أَن يَكُونَ شُعْبَةُ رَجَعَ عَنْ رَفْعِهِ، فَاعْلَمْ أَنَّ غَيْرَهُ مِنْ أَهْلِ الثَّقَةِ وَالْأَمَانَةِ أَيْضًا قَدْ رَوَاهُ عَنِ الْحَكَمِ مَرْفُوعًا كَمَا رَوَاهُ شُعْبَةُ فِيمَا تَقَدَّمَ وَهُوَ عَمْرُو بْنُ قَيْسٍ الْمَلَائِيُّ، وَهُوَ ثِقَةٌ . بيان الوهم والايهام: 279/5»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں