المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
پانچ نمازوں کی فرضیت اور ان سے متعلقہ ابحاث
حدیث نمبر: 147
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامِ بْنِ مِلاسٍ الدِّمَشْقِيُّ ، قَالَ: ثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْجُهَنِيُّ فِي سَنَةِ اثْنَتَيْنِ وَتِسْعِينَ وَمِائَةٍ، قَالَ: ثَنِي عَمِّي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الرَّبِيعِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مُرُوا الصَّبِيَّ بِالصَّلاةِ ابْنَ سَبْعِ سِنِينَ وَاضْرِبُوا عَلَيْهَا ابْنَ عَشْرٍ" .
سیدنا سبرہ بن معبد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سات سالہ بچے کو نماز کا حکم دو اور دس سال کے بچے کو (نماز میں سستی پر) مارو۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 147]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 201/3، سنن أبى داود: 494، سنن الترمذي: 407، اس حديث كو امام ترمذي رحمہ الله نے ”حسن صحيح“، امام ابن خزيمه رحمہ الله 1002 نے ”صحيح“ كها هے. امام حاكم رحمہ الله 201/1 نے امام مسلم رحمہ اللہ كي شرط پر ”صحيح“ كها هے، حافظ ذهبي رحمہ اللہ نے ان كي موافقت كي هے. حافظ ابن قطان فاسي رحمہ الله: بيان الوهم والا يهام: 138/4 فرماتے هيں: عَسَى أَن يَكُونَ الْحَدِيثُ حَسَنًا۔ حافظ نووي رحمہ اللہ: خلاصة الأحكام: 1/ 252 نے اس كي سند كو ”حسن“ قرار ديا هے، حافظ ابن ملقن رحمہ الله: البدر المنير: 238/3 نے ”صحيح“ كها هے. عبدالملك بن ربيع ”حسن الحديث“ هے، مسند الإمام أحمد 180/2 - 182 اور سنن أبى داود 495 ميں بسند ”حسن“ اس كا ايك شاهد بهي هے.»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن
الرواة الحديث:
الربيع بن سبرة الجهني ← سبرة بن معبد الجهني