المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
پانچ نمازوں کی فرضیت اور ان سے متعلقہ ابحاث
حدیث نمبر: 146
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ إِدْرِيسَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابِيهْ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، قَالَ: قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلاةِ إِنْ خِفْتُمْ سورة النساء آية 101، وَقَدْ أَمِنَ النَّاسُ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْهُ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللَّهُ بِهَا عَلَيْكُمْ فَاقْبَلُوا صَدَقَتَهُ" .
سیدنا یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اس آیت کے متعلق پوچھا: «لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ إِنْ خِفْتُمْ» (اگر تم خوف کی حالت میں ہو، تو نماز قصر کرنے میں تم پر کوئی گناہ نہیں ہے) لیکن اب تو لوگ امن میں ہیں (لہذا اب قصر نہیں کرنا چاہیے) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہاری طرح مجھے بھی تعجب ہوا تھا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اللہ تعالی نے تم پر صدقہ کیا ہے، لہذا اس کے صدقہ کو قبول کرو۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 146]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح مسلم: 686»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح مسلم
الرواة الحديث:
يعلى بن منية التميمي ← عمر بن الخطاب العدوي