🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (1114)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
سورج گرہن کی نماز کے متعلق جو کچھ مروی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 248
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا مُطَرِّفٌ ، وَقَرَأْتُهُ، عَلَى ابْنِ نَافِعٍ عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ مَعَهُ، فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلا نَحْوًا مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلا ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوَّلِ ثُمَّ سَجَدَ"، قَالَ ابْنُ يَحْيَى: لَعَلَّهُمَا قَالا: ثُمَّ رَفَعَ أَوْ لَمْ يَقُولاهُ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوَّلِ ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوَّلِ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ انْصَرَفَ، وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ:" إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أحَدٍ وَلا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَاذْكُرُوا اللَّهَ . قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَأَيْنَاكَ تَنَاوَلْتَ شَيْئًا فِي مَقَامِكَ هَذَا ثُمَّ رَأَيْنَاكَ تَكَعْكَعْتَ، فَقَالَ: " رَأَيْتُ الْجَنَّةَ أَوْ أُرِيتُ الْجَنَّةَ فَتَنَاوَلْتُ مِنْهَا عُنْقُودًا وَلَوْ أَخَذْتُهُ لأَكَلْتُمْ مِنْهُ مَا بَقِيَتِ الدُّنْيَا، وَرَأَيْتُ النَّارَ فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ مَنْظَرًا قَطُّ، وَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ، قَالُوا: بِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: بِكُفْرِهِنَّ، قِيلَ: يَكْفُرْنَ بِاللَّهِ؟ قَالَ: يَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ، وَيَكْفُرْنَ الإِحْسَانَ، لَوْ أَحْسَنْتَ إِلَى إِحْدَاهُنَّ الدَّهْرَ كُلَّهُ ثُمَّ رَأَتْ مِنْكَ شَيْئًا، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ" ، أَخْبَرَنِي الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، أَنَّ الشَّافِعِيَّ ، أَخْبَرَهُمْ، قَالَ: وَأَنَا مَالِكٌ بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَلَمْ يَقُلْ فِي الْمَوْضِعِ الَّذِي شَكَّ فِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ثُمَّ رَفَعَ.
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج کو گرہن لگ گیا، تو آپ نے لوگوں کو نماز (کسوف) پڑھائی، چنانچہ آپ نے سورت بقرہ (کی تلاوت) کے بقدر لمبا قیام کیا، پھر لمبا رکوع کیا، رکوع سے سر اٹھا کر لمبا قیام کیا، جو پہلے قیام کی بہ نسبت چھوٹا تھا، پھر لمبا رکوع کیا، جو پہلے رکوع کی بہ نسبت چھوٹا تھا، پھر سجدہ کیا۔ ابن یحیٰی کہتے ہیں: شاید ان دونوں نے یہ بھی کہا تھا: پھر آپ اٹھے۔ پھر لمبا قیام کیا، جو پہلے قیام کی بہ نسبت چھوٹا تھا، پھر لمبا رکوع کیا، جو پہلے رکوع کی بہ نسبت چھوٹا تھا، رکوع سے سر اٹھا کر لمبا قیام کیا، جو پہلے کی بہ نسبت چھوٹا تھا، پھر لمبا رکوع کیا، جو پہلے رکوع کی بہ نسبت چھوٹا تھا، پھر سجدہ کیا، پھر آپ نے سلام پھیرا، تو سورج گرہن ختم ہو چکا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سورج اور چاند اللہ عز وجل کی نشانیاں ہیں، ان کو کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا، جب آپ ایسا منظر دیکھیں تو اللہ کا ذکر کریں، صحابہ کرام نے پوچھا: اللہ کے رسول! ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے اس جگہ سے کچھ لیا ہے، پھر ہم نے آپ کو الٹے پاؤں پیچھے ہٹتے دیکھا، فرمایا: میں نے جنت دیکھی، یا مجھے جنت دکھائی گئی تو میں نے اس میں سے ایک خوشہ لینا چاہا، اگر میں وہ خوشہ لے لیتا، تو رہتی دنیا تک آپ اسے کھاتے رہتے، نیز میں نے جہنم کو بھی دیکھا، ایسا (برا) منظر میں نے (پہلے) کبھی نہیں دیکھا تھا، جیسا آج دیکھا ہے، میں نے اس میں عورتوں کی کثرت دیکھی۔ لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! اس کی وجہ کیا ہے؟ فرمایا: ان کی ناشکری۔ کسی نے پوچھا: کیا وہ اللہ کی ناشکری کرتی ہیں؟ فرمایا: شوہر کی ناشکری کرتی ہیں اور احسان نہیں مانتیں، اگر آپ زندگی بھر کسی عورت (بیوی) سے احسان کرتے رہیں، پھر وہ آپ کی طرف سے کوئی بات مرضی کے خلاف دیکھ لے تو کہتی ہے: میں نے تو تیرے اندر کبھی خیر دیکھی ہی نہیں۔ اس روایت کو ربیع بن سلیمان نے بھی امام شافعی رحمہ اللہ سے ذکر کیا ہے، مگر اس میں محمد بن یحیٰی کے شک والے الفاظ (ثم رفع) کا ذکر نہیں ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 248]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 1052، صحيح مسلم: 907»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد اللهرأس المتقنين وكبير المتثبتين
👤←👥محمد بن إدريس الشافعي، أبو عبد الله
Newمحمد بن إدريس الشافعي ← مالك بن أنس الأصبحي
المجدد لأمر الدين على رأس المائتين
👤←👥الربيع بن سليمان المرادي، أبو محمد
Newالربيع بن سليمان المرادي ← محمد بن إدريس الشافعي
ثقة
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباس
Newعبد الله بن العباس القرشي ← الربيع بن سليمان المرادي
صحابي
👤←👥عطاء بن يسار الهلالي، أبو محمد
Newعطاء بن يسار الهلالي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥زيد بن أسلم القرشي، أبو خالد، أبو أسامة، أبو عبد الله
Newزيد بن أسلم القرشي ← عطاء بن يسار الهلالي
ثقة
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله
Newمالك بن أنس الأصبحي ← زيد بن أسلم القرشي
رأس المتقنين وكبير المتثبتين
👤←👥عبد الله بن نافع المخزومي، أبو محمد
Newعبد الله بن نافع المخزومي ← مالك بن أنس الأصبحي
صدوق حسن الحديث
👤←👥مطرف بن عبد الله اليساري، أبو مصعب
Newمطرف بن عبد الله اليساري ← عبد الله بن نافع المخزومي
ثقة
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله
Newمحمد بن يحيى الذهلي ← مطرف بن عبد الله اليساري
ثقة حافظ جليل
Al-Muntaqa Ibn al-Jarud Hadith 248 in Urdu