یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
روزوں کا بیان
حدیث نمبر: 399
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ: ثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي سَفَرٍ، فَرَأَى رَجُلا عَلَيْهِ زِحَامٌ وَقَدْ ظُلِّلَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: مَا هَذَا؟ قَالُوا: صَائِمٌ، قَالَ: " لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ أَنْ تَصُومُوا فِي السَّفَرِ" .
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر پر تھے، آپ نے ایک آدمی کو دیکھا، جس کے پاس بہت سے لوگ جمع تھے اور اس پر سایہ کیا گیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی وجہ پوچھی؟ تو لوگوں نے بتایا: یہ روزہ دار ہے۔ فرمایا: یہ کوئی نیکی نہیں کہ تم سفر میں روزہ رکھو۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصيام/حدیث: 399]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 1946، صحیح مسلم: 1115»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
الرواة الحديث:
Al-Muntaqa Ibn al-Jarud Hadith 399 in Urdu
محمد بن عمرو الهاشمي ← جابر بن عبد الله الأنصاري