المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
روزوں کا بیان
حدیث نمبر: 403
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُرَشِيِّ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: صُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَضَانَ فَلَمْ يَقُمْ بِنَا مِنَ الشَّهْرِ شَيْئًا، حَتَّى إِذَا بَقِيَ سَبْعٌ فَقَامَ بِنَا حَتَّى ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ، ثُمَّ لَمْ يَقُمْ بِنَا اللَّيْلَةَ الرَّابِعَةَ وَقَامَ بِنَا الَّتِي تَلِيهَا حَتَّى ذَهَبَ نَحْوٌ مِنْ شَطْرِ اللَّيْلِ، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ نَفَّلْتَنَا بَقِيَّةَ لَيْلَتَنَا هَذِهِ؟ قَالَ:" إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا قَامَ مَعَ الإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ حُسِبَتْ لَهُ بَقِيَّةُ لَيْلَتِهِ"، ثُمَّ لَمْ يَقُمْ بِنَا السَّادِسَةَ وَقَامَ بِنَا السَّابِعَةَ وَبَعَثَ إِلَى أَهْلِهِ وَاجْتَمَعَ النَّاسُ فَقَامَ بِنَا حَتَّى خَشِينَا أَنْ يَفُوتَنَا الْفَلاحُ، قُلْتُ:" وَمَا الْفَلاحُ؟ قَالَ: السَّحُورُ" .
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے، آپ نے اس مہینے ہمیں کوئی قیام (تراویح) نہیں کروایا حتی کہ جب سات راتیں باقی رہ گئیں، تو ایک تہائی رات تک نماز (تراویح) پڑھائی، پھر چوتھی (چوبیسویں) رات قیام نہیں کروایا، اگلی رات قیام کروایا حتی کہ تقریباً آدھی رات گزر گئی۔ ہم نے عرض کی: اللہ کے رسول! کاش آپ ساری رات نوافل پڑھاتے، فرمایا: جب کوئی امام کے ساتھ نماز پڑھتا ہے، یہاں تک کہ امام فارغ ہو جائے، اس کے لیے پوری رات کے قیام کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں چھٹی (چھبیسویں) رات قیام نہیں کروایا، بلکہ ساتویں (ستائیسویں) رات قیام کروایا، اپنے گھر والوں کو بھی پیغام بھیجا اور لوگ بھی جمع ہو گئے، تو آپ نے ہمیں اتنا لمبا قیام کروایا کہ ہمیں فلاح کے فوت ہونے کا اندیشہ ہو گیا۔ (داود بن ابی ہند کہتے ہیں) میں نے (اپنے استاد سے) پوچھا: فلاح کیا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: اس سے مراد سحری کا کھانا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصيام/حدیث: 403]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح: مسند الإمام أحمد: 159/5، 163، سنن أبي داود: 1375، سنن النسائي: 1395، سنن الترمذي: 806، سنن ابن ماجه: 1327، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح، امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (2206) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (2547) نے صحیح کہا ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
الرواة الحديث:
جبير بن نفير الحضرمي ← أبو ذر الغفاري