المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حج کے مناسک (طریقوں) کا بیان
حدیث نمبر: 432
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ: ثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَيْسٍ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُنِيخٌ بِالْبَطْحَاءِ، فَقَالَ لِي: أَحَجَجْتَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: كَيْفَ صَنَعْتَ؟، قَالَ: قُلْتُ: لَبَّيْكَ بِإِهْلالٍ كَإِهْلالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَدْ أَحْسَنْتَ، اذْهَبْ فَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ أَحَلَّ" ، قَالَ: فَطُفْتُ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ.
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جب آپ بطحاء میں (حج کے لیے جاتے ہوئے) اترے ہوئے تھے۔ آپ نے پوچھا: کیا تم نے حج کا ارادہ کیا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں! آپ نے پوچھا: تم نے کیسا احرام باندھا؟ میں نے کہا: میں نے وہی احرام باندھا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے باندھا۔ آپ نے فرمایا: تم نے اچھا کیا، جا کر بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کرو، پھر احرام کھول دو۔ چنانچہ میں نے بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کی۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب المناسك/حدیث: 432]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 1559، صحیح مسلم: 1221»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
الرواة الحديث:
طارق بن شهاب البجلي ← عبد الله بن قيس الأشعري