المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حج کے مناسک (طریقوں) کا بیان
حدیث نمبر: 466
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: خَرَجْنَا لا نَنْوِي إِلا الْحَجَّ، فَلَمَّا كُنَّا بِسَرِفٍ حِضْتُ فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، فَقَالَ: " أَحِضْتِ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: إِنَّ هَذَا شَيْءٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ فَاقْضِي مَا يَقْضِي الْمُحْرِمُ غَيْرَ أَنْ لا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم صرف حج کے ارادے سے نکلے تھے۔ جب ہم سرف پہنچے تو میں حائضہ ہو گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں رو رہی تھی۔ آپ نے پوچھا: کیا تم حائضہ ہو گئی ہو؟ میں نے کہا: ہاں۔ آپ نے فرمایا: یہ ایسی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ نے بنات آدم (خواتین) کے لیے مقدر کی ہے۔ تم وہ سب کرو جو محرم کرتا ہے، سوائے اس کے کہ بیت اللہ کا طواف نہ کرو۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب المناسك/حدیث: 466]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 1650، صحیح مسلم: 1211/119»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
الرواة الحديث:
القاسم بن محمد التيمي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق