المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حج کے مناسک (طریقوں) کا بیان
حدیث نمبر: 467
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زَكَرِيَّا ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عُرْوَة بْنُ مُضَرِّسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْمُزْدَلِفَةِ، فَقُلْتُ: أَتَيْتُكَ مِنْ جَبَلَيْ طَيِّءٍ وَقَدْ أَكْلَلْتُ رَاحِلَتِي وَلَمْ أَدَعْ حَبْلا إِلا وَقَفْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: " مَنْ شَهِدَ بِالصَّلاةِ مَعَنَا وَوَقَفَ بِعَرَفَةَ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ فَقَدْ قَضَى تَفَثَهُ وَتَمَّ حَجَّهُ" .
سیدنا عروہ بن مضرس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مزدلفہ میں آیا۔ میں نے عرض کیا: میں آپ کے پاس طے کے پہاڑوں سے آیا ہوں، میں نے اپنی سواری کو تھکا دیا اور ہر پہاڑ پر وقوف کیا۔ (کیا میرا حج ہو گیا؟) آپ نے فرمایا: جس نے ہمارے ساتھ یہ نماز (مغرب و عشاء) ادا کی اور رات یا دن کو عرفہ میں وقوف کیا، اس نے اپنی میل کچیل دور کر لی اور اس کا حج مکمل ہو گیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب المناسك/حدیث: 467]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: مسند الإمام أحمد: 15/4، سنن أبي داود: 1950، سنن النسائي: 3042، سنن الترمذي: 891، سنن ابن ماجه: 3016، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح، امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (2820) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (3850، 3851) نے صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (463/1) نے اسے صحیح کہا ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
عامر الشعبي ← عروة بن مضرس الطائي