المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
جنازوں کے احکام کا بیان
حدیث نمبر: 522
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالَ: ثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ ، قَالَ: ثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ خَباب بْنِ الأَرَتِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: هَاجَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ نَبْتَغِي وَجْهَ اللَّهِ، فَوَجَبَ أَجْرُنَا عَلَى اللَّهِ: فَمِنَّا مَنْ مَضَى لَمْ يَأْكُلْ مِنْ أَجْرِهِ شَيْئًا، مِنْهُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ فَلَمْ يُوجَدْ لَهُ شَيْءٌ يُكَفَّنُ فِيهِ إِلا نَمِرَةً، فَكُنَّا إِذَا وَضَعْنَاهَا عَلَى رَأْسِهِ خَرَجَتْ رِجْلاهُ وَإِذَا وَضَعْنَاهَا عَلَى رِجْلَيْهِ خَرَجَ رَأْسُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ضَعُوهَا مِمَّا يَلِي رَأْسَهُ وَاجْعَلُوا عَلَى رِجْلَيْهِ مِنَ الإِذْخَرِ" وَمِنَّا مَنْ أَيْنَعَتْ لَهُ ثَمَرَتُهُ فَهُوَ يَهْدِبُهَا .
سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اللہ کی راہ میں رضائے الٰہی کے حصول کے لیے ہجرت کی، چنانچہ ہمارا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمے واجب ہو گیا۔ ہم میں سے کچھ تو اس طرح فوت ہو گئے کہ انہوں نے (دنیا میں) اپنے اجر کا کچھ بھی حصہ حاصل نہیں کیا۔ سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ بھی انہی میں شامل ہیں، جو جنگ احد میں شہید ہوئے۔ انہیں کفن دینے کے لیے ایک دھاری دار چادر کے علاوہ کوئی چیز نہ ملی۔ اگر ہم وہ چادر ان کے سر پر ڈالتے تو پاؤں ننگے ہو جاتے اور اگر پاؤں پر ڈالتے تو سر ننگا ہو جاتا۔ (یہ صورت حال دیکھ کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چادر سر کی طرف ڈال دو اور پاؤں پر اذخر گھاس ڈال دو۔“ ہم میں سے کچھ ایسے ہیں جن کا پھل پک چکا ہے اور وہ اسے کاٹ رہے ہیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الجنائز/حدیث: 522]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 1276، صحيح مسلم: 940»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
الرواة الحديث:
شقيق بن سلمة الأسدي ← خباب بن الأرت التميمي