الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
تجارتوں کے بارے میں باب
حدیث نمبر: 567
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ نَافِعِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ حَبَّانَ بْنَ مُنْقِذٍ كَانَ سَفَعَ فِي رَأْسِهِ مَأْمُومَةُ، فَثَقُلَتْ لِسَانُهُ وَكَانَ يُخْدَعُ فِي الْبَيْعِ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا ابْتَاعَ فَهُوَ بِالْخِيَارِ ثَلاثًا، وَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بِعْ وَقُلْ لا خِلابَةَ" ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ: لا خِيَابَةَ لا خِيَابَةَ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حیان بن منقذ کے سر میں زخم تھا (جس کی وجہ سے) ان کی زبان اٹکتی تھی اور وہ اکثر خرید و فروخت میں دھوکہ کھا جاتے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خریداری میں تین دن کا اختیار دے دیا، نیز فرمایا: ”خریدتے وقت کہہ دیا کیجیے، بھائی دھوکہ اور فریب کا کام نہیں۔“ میں نے سنا: وہ ’لا خذابة، لا خذابة‘ کہا کرتے تھے (یعنی ’لا خلابة‘ نہیں کہہ سکتے تھے)۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب البيوع والتجارات/حدیث: 567]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «حسن: مسند الحميدي: 662، مسند الإمام أحمد: 129/2، سنن الدارقطني: 55,54/3، السنن الكبرى للبيهقي: 273/5، اس حدیث کو امام ابو عوانہ رحمہ اللہ (4934) اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ (تلخیص المستدرک: 22/2) نے صحیح کہا ہے، سفیان بن عیینہ کی متابعت ہوتی ہے، مسند الامام احمد (129/2) میں محمد بن اسحاق نے سماع کی تصریح کر رکھی ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
حسن
الرواة الحديث:
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي