المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1. باب في التجارات
تجارتوں کے بارے میں باب
حدیث نمبر: 555
حَدَّثَنَا أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، قَالَ: ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: ثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَلا وَاللَّهِ لا أَسْمَعُ بَعْدَهُ أَحَدًا، يَقُولُ: سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ الْحَلالَ بَيِّنٌ وَإِنَّ الْحَرَامَ بَيِّنٌ وَإِنَّ بَيْنَ ذَلِكَ أُمُورًا مُشْتَبِهَاتٍ"، قَالَ: وَرُبَّمَا قَالَ:" مُشْتَبِهَةً، وَسَأَضْرِبُ لَكُمْ فِي ذَلِكَ مثلا: إِنَّ اللَّهَ حَمَى حِمًى وَإِنَّ حِمَى اللَّهِ مَحَارِمُهُ، وَإِنَّهُ مَنْ يَرْعَ حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكْ أَنْ يَرْتَعَ، وَإِنَّ مَنْ يُخَالِطِ الرِّيبَةَ يُوشِكْ أَنْ يَجْسُرَ" ، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: فَلا أَدْرِي هَذَا مَا سَمِعَ مِنَ النُّعْمَانِ أَوْ قَالَ بِرَأْيِهِ.
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: (شعبی کہتے ہیں: اللہ کی قسم! ان کے بعد میں نے کسی سے نہیں سنا کہ اس نے کہا ہو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے) ”حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے لیکن ان کے درمیان کچھ مشتبہ چیزیں ہیں، میں تمہارے سامنے اس کی مثال بیان کرتا ہوں، بے شک اللہ تعالیٰ نے ایک چراگاہ مقرر کی ہے اور اللہ کی چراگاہ اس کی حرام کردہ اشیا ہیں، جو (جانور بھی) چراگاہ کے اردگرد چرے گا، اس کا چراگاہ میں داخل ہو جانا عین ممکن ہے، جو مشکوک چیزوں سے میل ملاپ رکھے گا، قریب ہے کہ وہ ان (کرنے) پر دلیر ہو جائے۔“ ابن عون کہتے ہیں: معلوم نہیں کہ امام شعبی رحمہ اللہ نے یہ بات سیدنا نعمان رضی اللہ عنہما سے سنی ہے یا اپنی رائے سے کی ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالتِّجَارَاتِ/حدیث: 555]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 2051، صحیح مسلم: 1599»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
حدیث نمبر: 556
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي عِيسَى ، وَهِشَامُ بْنُ الْجُنَيْدِ ، قَالا: ثَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ هُوَ ابْنُ أَبِي رَوَّادٍ ، قَالَ: ثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهُ لَنْ يَمُوتَ أَحَدٌ حَتَّى يَسْتَكْمِلَ رِزْقَهُ، فَلا تَسْتَبْطِئُوا الرِّزْقَ، وَاتَّقُوا اللَّهَ أَيُّهَا النَّاسُ وَأَجْمِلُوا فِي الطَّلَبِ، وَخُذُوا مَا حَلَّ وَدَعُوا مَا حُرِّمَ" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بھی اپنا رزق پورا کیے بغیر نہیں مرے گا، لہذا آپ رزق طلب کرنے میں سستی نہ کریں، لوگو! اللہ سے ڈرو، (رزق) اچھے طریقے سے تلاش کرو، حلال لے لو اور حرام چھوڑ دو۔“ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالتِّجَارَاتِ/حدیث: 556]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف والحديث صحيح: سنن ابن ماجه: 2144، السنن الكبرى للبيهقي 265/5، اس حدیث کو امام حاکم رحمہ اللہ (326/4) نے صحیح الاسناد اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے۔ ابن جریج اور ابوالزبیر مدلس ہیں، لیکن اس کا ایک شاہد بسند صحیح السنن الكبرى للبيهقي (264/5) میں آتا ہے، اسے امام ابن حبان رحمہ اللہ (3239) نے صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (4/2) نے امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے، سعید بن ابی ہلال کی متابعت شعبہ نے حلیۃ الاولیاء لابی نعیم الاصبہانی (3/158) میں کر رکھی ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده ضعيف والحديث صحيح
حدیث نمبر: 557
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، وَجَامِعٍ ، وَعَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ شَقِيقٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" كُنَّا نَبِيعُ بِالْبَقِيعِ فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكُنَّا نُسَمَّى السَّمَاسِرَةَ، فَقَالَ:" يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ، فَسَمَّانَا بِاسْمٍ أَحْسَنَ مِنِ اسْمِنَا، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ هَذَا الْبَيْعَ يَحْضُرُهُ الْحَلِفُ وَالْكَذِبُ، فَشُوبُوهُ بِالصَّدَقَةِ" .
سیدنا قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم بقیع کے پاس (سامان) بیچا کرتے تھے اور ہمیں سماسرہ (دلال) کہا جاتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے اور فرمایا: ”اے تاجروں کی جماعت!“ آپ نے ہمارا بہترین نام لیا، پھر فرمایا: ”اس بیع میں قسم اور جھوٹ شامل ہو جاتا ہے، چنانچہ اس کے ساتھ صدقہ کو ملالیا کرو (یعنی صدقہ کے ذریعے اس کمی کو پورا کرلیا کرو)۔“ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالتِّجَارَاتِ/حدیث: 557]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح، له طرق كثيرة: مسند الحميدي: 442، مسند الإمام أحمد: 16/4، سنن أبي داؤد: 3327، سنن النسائي: 3829، اس حدیث کو امام حاکم رحمہ اللہ (5/2) نے صحیح الاسناد اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح، له طرق كثيرة
حدیث نمبر: 558
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ لِرَجُلٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِنٌّ مِنَ الإِبِلِ فَجَعَلَ يَتَقَاضَاهُ، فَقَالَ: أَعْطُوهُ، فَلَمْ يَجِدُوا لَهُ إِلا سِنًّا فَوْقَ سِنِّهِ، فَقَالَ: أَعْطُوهُ، فَقَالَ: أَوْفَيْتَنِي أَوْفَى اللَّهُ لَكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ خِيَارَكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءً" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ ایک آدمی کا اونٹ (ادھار) تھا، وہ آپ سے مانگنے آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اونٹ دے دیں۔“ صحابہ کرام کو اس عمر کا اونٹ نہ ملا، بلکہ اس سے بڑی عمر کا اونٹ ملا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہی دے دیں۔“ اس نے کہا: ”آپ نے مجھے پورا ادا کیا ہے، اللہ بھی آپ کو پورا پورا بدلہ دے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آپ میں سے بہتر وہ ہے، جو اچھے طریقے سے ادائیگی کرتا ہے۔“ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالتِّجَارَاتِ/حدیث: 558]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 2393، صحیح مسلم: 1601»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
حدیث نمبر: 559
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالَ: ثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" جَلَبْتُ أَنَا وَمَخْرَمَةُ الْعَبْدِيُّ بَزًّا مِنْ هَجَرَ، فَجَاءَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَاوَمَنَا بِسَرَاوِيلَ، وَعِنْدَنَا وَزَّانٌ يَزِنُ بِالأَجْرِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْوَزَّانِ: زِنْ وَأَرْجِحْ" .
سیدنا سوید بن قیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اور مخرمہ عبدی ہجر سے کپڑا لے کر آئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے اور (چند شلواروں کے کپڑے کا) سودا کیا، ہمارے پاس ایک آدمی تھا، جو مزدوری پر تولا کرتا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”جھکا کر تولا کیجیے (یعنی زیادہ دیا کریں)۔“ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالتِّجَارَاتِ/حدیث: 559]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح وللحديث شواهد: مسند الإمام أحمد: 352/4، سنن أبي داود: 3336، سنن النسائي: 4596، سنن الترمذي: 1305، سنن ابن ماجه: 2220-2222-3579، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (5147) نے صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (192/4) نے صحیح الاسناد اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح وللحديث شواهد
حدیث نمبر: 560
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيٍّ فَلْيَتْبَعْ وَالظُّلْمُ مَطْلُ الْغَنِيِّ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کسی کا قرض کسی مالدار کے حوالہ کیا جائے تو وہ اسے قبول کرلے، مالدار کی طرف سے (قرض ادا کرنے میں) ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔“ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالتِّجَارَاتِ/حدیث: 560]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 2288، صحیح مسلم: 1564»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
حدیث نمبر: 561
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يُبَاعَ فِي الْمَسْجِدِ أَوْ يُشْتَرَى فِيهِ" .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں خرید و فروخت کرنے سے منع فرمایا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالتِّجَارَاتِ/حدیث: 561]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 179/2، سنن أبي داود: 1079، سنن النسائي: 715، سنن الترمذي: 322، سنن ابن ماجه: 766-1133، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن اور امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (1304، 1306، 1816) نے صحیح کہا ہے۔ ابن عجلان نے مسند الامام احمد (179/2) میں سماع کی تصریح کر رکھی ہے۔ نیز مسند الامام احمد (212/2) میں ان کی متابعت اسامہ بن زید نے کر رکھی ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 562
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا النُّفَيْلِيُّ ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا رَأَيْتُمْ مَنْ يَبِيعُ أَوْ يَبْتَاعُ فِي الْمَسْجِدِ، فَقُولُوا: لا أَرْبَحَ اللَّهُ تِجَارَتَكَ، وَإِذَا رَأَيْتُمْ مَنْ يَنْشُدُ فِيهِ الضَّالَّةَ، فَقُولُوا: لا أَدَّى اللَّهُ عَلَيْكَ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مسجد میں کسی کو خرید و فروخت کرتے دیکھو، تو کہو: اللہ تعالیٰ تیری تجارت میں نفع نہ ڈالے، جب مسجد میں کسی کو گم شدہ چیز کا اعلان کرتے دیکھو، تو کہو: اللہ تجھے واپس نہ کرے۔“ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالتِّجَارَاتِ/حدیث: 562]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: سنن الترمذي: 1321، عمل اليوم والليلة للنسائي: 176، سنن الدارمي: 1401، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن غریب، امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (1305) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (1950) نے صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (56/2) نے امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے، صحیح مسلم (568) میں اس کا شاہد بھی ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 563
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ: أَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، ح وَثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ عَلِيٌّ: يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا تَنَاجَشُوا، وَلا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ، وَلا يَبِعِ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ، وَلا يَخْطُبِ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، وَلا تَسْأَلِ الْمَرْأَةُ طَلاقَ أُخْتِهَا" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نجش (دھوکہ یعنی قیمت بڑھانے کے لیے بولی لگانا) مت کریں، کوئی شہری دیہاتی کا سامان نہ بیچے، کوئی آدمی اپنے (مسلمان) بھائی کے سودے پر سودا نہ کرے، کوئی اپنے (مسلمان) بھائی کی منگنی پر منگنی نہ کرے اور کوئی عورت اپنی (مسلمان) بہن کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے۔“ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالتِّجَارَاتِ/حدیث: 563]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 2140، صحیح مسلم: 1314»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
حدیث نمبر: 564
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ يَبِيعُ طَعَامًا فَأُوحِيَ إِلَيْهِ: أَدْخِلْ يَدَكَ مِنْ أَسْفَلِهِ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ فَوَجَدَهُ مُخَالِفًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ مِنَّا مَنْ غَشَّنَا" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے، جو غلہ بیچ رہا تھا، آپ کو وحی کی گئی کہ اپنا ہاتھ اس میں داخل کریں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ داخل کیا، تو اسے (اوپر سے) مختلف پایا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو ہم سے دھوکہ کرتا ہے، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔“ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالتِّجَارَاتِ/حدیث: 564]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 102»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح