المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
دھوکہ دہی اور دیگر ممنوعہ خرید و فروخت کا بیان
حدیث نمبر: 601
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَنَّ إِسْمَاعِيلَ بْنَ عُلَيَّةَ أَخْبَرَهُمْ، عَنْ أَيُّوبَ ، قَالَ: ثني عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، قَالَ: ثني أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، حَتَّى ذَكَرَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يَحِلُّ سَلَفٌ وَبَيْعٌ، وَلا شَرْطَانِ فِي بَيْعٍ، وَلا رِبْحُ مَا لَمْ يَضْمَنْ، وَلا بَيْعُ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ" .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قرض اور بیع جائز نہیں، نہ ہی ایک بیع میں دو شرطیں جائز ہیں، جس چیز کے نقصان کا آدمی ضامن نہ ہو اس کا نفع لینا بھی جائز نہیں، جو چیز آپ کے پاس موجود نہیں اس کی بیع بھی جائز نہیں۔“ [المنتقى ابن الجارود/كتاب البيوع والتجارات/حدیث: 601]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن والحديث صحيح: مسند الإمام أحمد: 174/2-179، سنن أبي داود: 3504، سنن النسائي: 4615، سنن الترمذي: 1234، سنن ابن ماجه: 2188، امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو حسن صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (1/172) فرماتے ہیں: ”هَذَا حَدِيثٌ عَلَى شَرْطِ جُمْلَةِ أَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ صَحِيحٌ“۔ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن والحديث صحيح
الرواة الحديث:
Al-Muntaqa Ibn al-Jarud Hadith 601 in Urdu
محمد بن عبد الله السهمي ← عبد الله بن عمرو السهمي