یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
خرید و فروخت میں فیصلوں کے ابواب
حدیث نمبر: 620
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ مَسْعَدَةَ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْبَائِعُ وَالْمُبْتَاعُ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، إِلا أَنْ تَكُونَ صَفْقَةُ خِيَارٍ، وَلا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يُفَارِقَهُ خَشْيَةَ أَنْ يَسْتَقِيلَهُ" .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خریدنے اور بیچنے والے جب تک ایک دوسرے سے الگ نہ ہو جائیں، انہیں اختیار باقی رہتا ہے، الا یہ کہ بیع خیار ہو (یعنی بیع توڑنے کا اختیار دیا گیا ہو) اور سودا واپس کرنے کے اندیشے کے پیش نظر جلدی سے الگ ہو جانا جائز نہیں۔“ [المنتقى ابن الجارود/كتاب البيوع والتجارات/حدیث: 620]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «اسنادہ حسن: مسند الامام احمد: 183/2، سنن ابی داود: 3456، سنن النسائی: 4488، سنن الترمذی: 1247، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن کہا ہے، سنن دار قطنی (50/3) میں ابن عجلان کی متابعت بکیر بن عبداللہ اصج نے سماع مسلسل کے ساتھ کر رکھی ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
اسنادہ حسن
الرواة الحديث:
Al-Muntaqa Ibn al-Jarud Hadith 620 in Urdu
شعيب بن محمد السهمي ← عبد الله بن عمرو السهمي