🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (1114)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

4. أبواب القضاء في البيوع
خرید و فروخت میں فیصلوں کے ابواب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 617
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا أَوْ يَكُونُ بَيْعُهُمَا عَنْ خِيَارٍ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خریدنے اور بیچنے والے جب تک ایک دوسرے سے الگ نہ ہو جائیں، انہیں اختیار باقی رہتا ہے، الا یہ کہ ان کی بیع خیار والی ہو۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالتِّجَارَاتِ/حدیث: 617]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 2113، صحیح مسلم: 1531»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 618
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ أَخْبَرَهُمْ، قَالَ: أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَهُ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا تَبَايَعَ الرَّجُلانِ فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، وَكَانَا جَمِيعًا، أَوْ يُخَيِّرُ أَحَدُهُمَا الآخَرَ، فَإِنْ خَيَّرَ أَحَدُهُمَا الآخَرَ فَتَبَايَعَا عَلَى ذَلِكَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ، وَإِنْ تَفَرَّقَا بَعْدَ أَنْ تَبَايَعَا وَلَمْ يَتْرُكْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا الْبَيْعَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب دو آدمی خرید و فروخت کریں، تو جب تک وہ دونوں جدا نہ ہو جائیں، انہیں (بیع توڑنے کا) اختیار باقی رہتا ہے، یہ اس صورت میں ہے کہ دونوں ایک ہی جگہ رہیں یا وہ ایک دوسرے کو (بیع توڑنے کا) اختیار دے دیں۔ اگر وہ ایک دوسرے کو اختیار دے دیں اور اس شرط پر بیع کریں، تو بیع منعقد ہو جائے گی۔ (اسی طرح) اگر بیع کرنے کے بعد دونوں الگ ہو جائیں اور کوئی بھی بیع سے انکار نہ کرے، تو بھی بیع لازم ہو جاتی ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالتِّجَارَاتِ/حدیث: 618]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 2112، صحیح مسلم: 1531»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 619
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ: ثنا جَمِيلُ بْنُ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْوَضِيِّ ، قَالَ: غَزَوْنَا غَزَاةً لَنَا فَنَزَلْنَا مَنْزِلا، فَبَاعَ صَاحِبٌ لَنَا فَرَسًا مِنْ رَجُلٍ بِعَبْدٍ فَلَبِثَا بَقِيَّةَ يَوْمِهِمَا وَلَيْلَتِهِمَا حَتَّى أَصْبَحَا، قَالَ: فَلَمَّا حَضَرَ الرَّحْلُ قَامَ الرَّجُلُ إِلَى فَرَسِهِ لِيُسْرِجَهُ وَنَدِمَ، قَالَ: فَأَخَذَهُ الرَّجُلُ بِالْبَيْعَةِ، فَأَتَيَا أَبَا بَرْزَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَصَّا عَلَيْهِ قِصَّتَهُمَا، فَقَالَ: أَتَرْضَيَانِ أَنْ أَقْضِيَ بَيْنَكُمَا بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا" .
سیدنا ابوالوضیع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک غزوہ میں شریک تھے، تو ہم نے ایک جگہ پڑاؤ ڈالا۔ (اس دوران) ہمارے ایک ساتھی نے غلام کے عوض گھوڑا فروخت کر دیا، پھر صبح تک دن اور رات کا باقی حصہ انہوں نے وہیں گزارا۔ جب کوچ کرنے کا وقت آیا، تو وہ آدمی اپنے گھوڑے پر زین کسنے کے لیے اٹھا، تو نادم ہوا (کہ گھوڑا کیوں فروخت کیا)۔ دوسرے آدمی نے چونکہ گھوڑا خرید لیا تھا، لہذا اس نے گھوڑا پکڑ لیا۔ چنانچہ وہ دونوں سیدنا ابو برزہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور انہیں یہ قصہ سنایا۔ انہوں نے فرمایا: اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے مطابق تمہارے درمیان فیصلہ کر دوں، تو منظور ہو گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خریدنے اور بیچنے والے جب تک ایک دوسرے سے الگ نہ ہو جائیں، انہیں (بیع توڑنے کا) اختیار باقی رہتا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالتِّجَارَاتِ/حدیث: 619]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 2112، صحیح مسلم: 1531/44، اسنادہ صحیح: مسند احمد: 425/4، سنن ابی داود: 3457، سنن ابن ماجہ: 2181»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
اسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 620
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ مَسْعَدَةَ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْبَائِعُ وَالْمُبْتَاعُ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، إِلا أَنْ تَكُونَ صَفْقَةُ خِيَارٍ، وَلا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يُفَارِقَهُ خَشْيَةَ أَنْ يَسْتَقِيلَهُ" .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خریدنے اور بیچنے والے جب تک ایک دوسرے سے الگ نہ ہو جائیں، انہیں اختیار باقی رہتا ہے، الا یہ کہ بیع خیار ہو (یعنی بیع توڑنے کا اختیار دیا گیا ہو) اور سودا واپس کرنے کے اندیشے کے پیش نظر جلدی سے الگ ہو جانا جائز نہیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالتِّجَارَاتِ/حدیث: 620]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «اسنادہ حسن: مسند الامام احمد: 183/2، سنن ابی داود: 3456، سنن النسائی: 4488، سنن الترمذی: 1247، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن کہا ہے، سنن دار قطنی (50/3) میں ابن عجلان کی متابعت بکیر بن عبداللہ اصج نے سماع مسلسل کے ساتھ کر رکھی ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
اسنادہ حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 621
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، قَالَ: ثنا قُرَّةُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنِ اشْتَرَى مُصَرَّاةً فَهُوَ بِالْخِيَارِ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ، فَإِنْ رَدَّهَا رَدَّ مَعَهَا صَاعًا مِنْ طَعَامٍ لا سَمْرَاءَ" ، قَالَ أَبُو عَامِرٍ: يَقُولُ: لَيْسَ بُرًّا.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے مصراة (وہ جانور جس کے تھنوں میں دودھ روک لیا جائے) خریدی، تو اسے تین دن تک اختیار ہے، اگر واپس کرنا چاہتا ہے، تو واپس کر دے اور غلے کا ایک صاع بھی ساتھ دے، گندم نہ دے۔ ابو عامر نے کہا: گندم نہ ہو۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالتِّجَارَاتِ/حدیث: 621]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 1524»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 622
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ: ثنا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَيُّمَا امْرَأَةٍ زَوَّجَهَا وَلِيَّانِ فَهِيَ لِلأَوَّلِ، وَأَيُّمَا رَجُلٌ بَاعَ بَيْعًا مِنْ رَجُلَيْنِ فَالْبَيْعُ لِلأَوَّلِ" .
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس عورت کی شادی دو ولی کر دیں، تو پہلی شادی معتبر ہوگی اور جو آدمی دو آدمیوں کے ساتھ سودا کر دے، تو پہلا سودا معتبر ہوگا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالتِّجَارَاتِ/حدیث: 622]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «حسن: مسند الامام احمد: 8/5، سنن ابی داود: 2088، سنن النسائی: 4686، سنن الترمذی: 1110، سنن ابن ماجہ: 2190، اس حدیث کو امام حاکم رحمہ اللہ (2/ 35) نے امام بخاری رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے،سنن نسائی (4686) میں قتادہ مدلس سے شعبہ بیان کر رہے ہیں، نیز المستدرک للحاکم (175/5) میں قتادہ کی متابعت اشعث بن عبدالملک حمرانی نے کر رکھی ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 623
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ: ثنا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا بَاعَ الْمُجِيرَانِ فَالْبَيْعُ لِلأَوَّلِ، وَإِذَا نَكَحَ الْوَلِيَّانِ فَالنِّكَاحُ لِلأَوَّلِ" .
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر دو حصہ دار (کوئی چیز) بیچ دیں، تو پہلے کا کیا ہوا سودا معتبر ہوگا اور اگر دو ولی (کسی عورت کا) نکاح کر دیں، تو پہلے کا کیا ہوا نکاح معتبر ہوگا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالتِّجَارَاتِ/حدیث: 623]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «حسن: انظر الحدیث السابق»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 624
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ الرَّازِيُّ ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ قَيْسٍ الْمَاصِرِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: بَاعَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ الأَشْعَثَ بْنَ قَيْسٍ سَبْيًا مِنْ سَبْيِ الإِمَارَةِ بِعِشْرِينَ أَلْفًا، فَجَاءَهُ بِعَشَرَةِ آلافٍ , فَقَالَ: إِنَّمَا بِعْتُكَ بِعِشْرِينَ أَلْفًا، قَالَ: إِنَّمَا أَخَذْتُهَا بِعَشَرَةِ آلافٍ، قَالَ: فَإِنِّي أَرْضَى فِي ذَلِكَ بِرَأْيِكَ، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِنْ شِئْتَ حَدَّثْتُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلْتُ، قَالَ: أَجَلْ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا تَبَايَعَ الْمُتَبَايِعَانِ بَيْعًا لَيْسَ بَيْنَهُمَا شُهُودٌ فَالْقَوْلُ مَا قَالَ الْبَائِعُ أَوْ يَتَرَادَّانِ الْبَيْعَ" ، قَالَ الأَشْعَثُ: فَإِنِّي قَدْ رَدَدْتُ عَلَيْكَ.
عبدالرحمن بن عبداللہ بن مسعود رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کو ایک سرکاری غلام بیس ہزار کا بیچ دیا۔ وہ دس ہزار لے کر آئے، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے آپ کو یہ غلام بیس ہزار کا فروخت کیا ہے۔ انہوں نے کہا: میں نے تو دس ہزار کا لیا ہے۔ اشعث رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس مسئلہ میں آپ کی رائے پر راضی ہوں۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر آپ چاہیں، تو میں آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سناتا ہوں۔ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے (سنائیں)۔ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب دو آدمی سودا کریں اور ان کے مابین گواہ نہ ہو، تو (اختلاف کی صورت میں) بیچنے والے کی بات معتبر ہوگی یا پھر دونوں بیع توڑ دیں گے۔ اشعث رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آپ کو سودا واپس کرتا ہوں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالتِّجَارَاتِ/حدیث: 624]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «اسنادہ ضعیف: سنن الدارقطنی: 20/3، عبد الرحمن بن عبد اللہ بن مسعود کا اپنے والد سے اس روایت کی سماعت کا مسئلہ ہے، اس کی اور بھی ضعیف سندیں ہیں۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
اسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 625
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، قَالَ: ثنا أَبِي ، عَنْ أَبِي عُمَيْسٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ قَيْسِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الأَشْعَثِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: اشْتَرَى الأَشْعَثُ رَقِيقًا مِنْ رَقِيقِ الْخُمْسِ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِعِشْرِينَ أَلْفًا، فَأَرْسَلَ عَبْدُ اللَّهِ إِلَيْهِ فِي ثَمَنِهِمْ، فَقَالَ: إِنَّمَا أَخَذَتْهُمْ بِعَشَرَةِ آلافٍ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَاخْتَرْ رَجُلا يَكُنْ بَيْنِي وَبَيْنَكَ، قَالَ الأَشْعَثُ: أَنْتَ بَيْنِي وَبَيْنَ نَفْسِكَ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَإِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيِّعَانِ وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا بَيِّنَةٌ فَهُوَ مَا يَقُولُ رَبُّ السِّلْعَةِ أَوْ يَتَتَارَكَا" .
محمد بن اشعث رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے خمس کے غلاموں میں سے ایک غلام بیس ہزار کا خریدا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان کے پاس قیمت کے لیے آدمی بھیجا، تو وہ کہنے لگے: میں نے تو دس ہزار کا خریدا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: کوئی آدمی منتخب کر لیں، جو میرے اور آپ کے درمیان فیصلہ کر دے۔ اشعث رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ ہی میرے اور اپنے درمیان فیصلہ کر دیں۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ وہ فرما رہے تھے: جب دو سودا کرنے والے آدمی آپس میں جھگڑ پڑیں اور ان کے پاس دلیل نہ ہو، تو سامان کے مالک کی بات معتبر ہوگی یا پھر دونوں بیع چھوڑ دیں گے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالتِّجَارَاتِ/حدیث: 625]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «اسنادہ ضعیف: سنن ابی داود: 3511، سنن النسائی: 4652، اس حدیث کو امام حاکم رحمہ اللہ (42/2) نے ”صحیح الاسناد“ کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ”صحیح“ کہا ہے، حافظ بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہٰذا إِسْنَادٌ حَسَنٌ مَّوْصُولٌ . (السنن الکبری: 332/5) حافظ ابن عبدالہادی رحمہ اللہ کہتے ہیں: وَالَّذِي يَظْهَرُ أَنَّ حَدِيثَ ابْنِ مَسْعُودٍ بِمَجْمُوعِ طُرُقِهِ لَهُ أَصْلٌ بَلْ هُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ يُحْتَجُ بِهِ لَكِنْ فِي لَفْظِهِ اخْتِلَاف . (نصب الرایۃ للزیلعی: 107/4) حفص بن غیاث مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
اسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 626
حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، عَنِ الشَّافِعِيِّ ، قَالَ: ثنا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْها، أَنَّ رَجُلا اشْتَرَى عَبْدًا فَاسْتَغَلَّهُ ثُمَّ ظَهَرَ مِنْهُ عَلَى عَيْبٍ، فَخَاصَمَ فِيهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَضَى لَهُ بِرَدِّهِ، فَقَالَ الْبَائِعُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ قَدْ أَخَذَ خَرَاجَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک آدمی نے غلام خریدا اور اس سے خراج (نفع) حاصل کیا، پھر اس (غلام) میں کوئی عیب پتہ چل گیا۔ وہ آدمی جھگڑتا ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، تو آپ نے وہ غلام واپس کرنے کا فیصلہ کر دیا۔ بیچنے والا شخص کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! اس نے (غلام سے) خراج وصول کیا ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خراج (نفع) لینے کا حقدار وہ ہے، جو نقصان کا ذمہ دار بنے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالتِّجَارَاتِ/حدیث: 626]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «اسنادہ ضعیف والحدیث حسن ان شاء اللہ: سنن ابی داود: 3510، سنن ابن ماجہ: 2243، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن غریب، امام ابو عوانہ رحمہ اللہ (5494) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (4927) نے صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (15/2) نے صحیح الاسناد اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ”صحیح“ کہا ہے۔ مسلم بن خالد ابو خالد زنجی جمہور کے نزدیک ضعیف ہے، اس کے بارے میں حافظ ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وَالْجُمْهُورُ ضَعَّفَہُ . (مجمع الزوائد: 45/5) تاریخ بغداد للخطیب (297/8، 298، وسندہ حسن) میں مسلم بن خالد کی متابعت خالد بن مہران نے کر رکھی ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
اسنادہ ضعیف والحدیث حسن ان شاء اللہ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں