المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
خرید و فروخت میں فیصلوں کے ابواب
حدیث نمبر: 622
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ: ثنا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَيُّمَا امْرَأَةٍ زَوَّجَهَا وَلِيَّانِ فَهِيَ لِلأَوَّلِ، وَأَيُّمَا رَجُلٌ بَاعَ بَيْعًا مِنْ رَجُلَيْنِ فَالْبَيْعُ لِلأَوَّلِ" .
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس عورت کی شادی دو ولی کر دیں، تو پہلی شادی معتبر ہوگی اور جو آدمی دو آدمیوں کے ساتھ سودا کر دے، تو پہلا سودا معتبر ہوگا۔“ [المنتقى ابن الجارود/كتاب البيوع والتجارات/حدیث: 622]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «حسن: مسند الامام احمد: 8/5، سنن ابی داود: 2088، سنن النسائی: 4686، سنن الترمذی: 1110، سنن ابن ماجہ: 2190، اس حدیث کو امام حاکم رحمہ اللہ (2/ 35) نے امام بخاری رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے،سنن نسائی (4686) میں قتادہ مدلس سے شعبہ بیان کر رہے ہیں، نیز المستدرک للحاکم (175/5) میں قتادہ کی متابعت اشعث بن عبدالملک حمرانی نے کر رکھی ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
حسن
الرواة الحديث:
الحسن البصري ← سمرة بن جندب الفزاري