المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
خرید و فروخت میں فیصلوں کے ابواب
حدیث نمبر: 636
حَدَّثَنَا الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ: ثنا الأَعْمَشُ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بِعْنِي جَمَلَكَ، قَالَ: قُلْتُ: لا، بَلْ هُوَ لَكَ، قَالَ: بِعْنِيهِ، قُلْتُ: فَإِنَّ لِفُلانٍ عَلَيَّ أُوقِيَّةً مِنْ ذَهَبٍ فَهُوَ لَكَ بِهَا فَأَخَذَهُ، ثُمَّ قَالَ: تَبْلُغُ عَلَيْهِ إِلَى أَهْلِكَ، فَلَمَّا قَدِمْتُ أَمَرَ بِلالا أَنْ يُعْطِيَنِي" وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اپنا اونٹ بیچ دیں۔“ عرض کیا: ”بیچنا تو نہیں، البتہ آپ اسے یوں ہی لے لیں۔“ فرمایا: ”بیچ دیں!“ میں نے کہا: ”میں نے فلاں آدمی کا ایک اوقیہ سونا دینا ہے، چنانچہ اس کے عوض یہ اونٹ آپ کا ہو گیا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ لے کر فرمایا: ”اپنے گھر تک اس پر سواری کر لیجیے۔“ جب میں گھر آگیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ مجھے اوقیہ دے دیں۔ انہوں نے بقیہ حدیث بھی بیان کی۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب البيوع والتجارات/حدیث: 636]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 715/111»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
الرواة الحديث:
سالم بن أبي الجعد الأشجعي ← جابر بن عبد الله الأنصاري