المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
نکاح کا بیان
حدیث نمبر: 700
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ أَبِي سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى : أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَيُّمَا امْرَأَةٍ تَزَوَّجَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهَا فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَإِنْ دَخَلَ بِهَا فَلَهَا الْمَهْرُ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا، وَإِنِ اشْتَجَرُوا فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لا وَلِيَّ لَهُ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس عورت نے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا، اس کا نکاح باطل ہے۔ اگر خاوند اس سے صحبت کر لے، تو اس (بیوی) کو مہر ملے گا، کیونکہ اس نے اس کی شرمگاہ کو جائز سمجھا ہے۔ اگر ولی آپس میں اختلاف کرنے لگیں (یعنی نکاح نہ کرنے دیں)، تو پھر جس کا باپ ولی نہ ہو، اس کی ولایت کا فیصلہ حاکم وقت کرے گا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب النكاح/حدیث: 700]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: مسند الحميدي: 228، مسند الإمام أحمد: 47/6-165-166، سنن أبي داؤد: 2083، سنن الترمذي: 1102، سنن ابن ماجه: 1879، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ اور حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ (معجم الشیوخ: 234) نے ”حسن“ جب کہ امام ابوعوانہ رحمہ اللہ (4259) امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (فتح الباری لابن حجر: 191/9) امام ابن حبان رحمہ اللہ (4074، 4075)، امام بیہقی رحمہ اللہ (السنن الكبرى: 107/7) اور حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ (التحقیق: 255/2) نے صحیح کہا ہے۔ امام حاکم رحمہ اللہ (168/2) نے اس حدیث کو امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح قرار دیا ہے، امام یحیی بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لَيْسَ يَصِحُ فِي هَذَا شَيْءٌ إِلَّا حَدِيثُ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسى . (التاريخ لابن معين برواية الدوري: 236/2، الكامل في ضعفاء الرّجال لابن عدي: 1115/3، السنن الكبرى للبيهقي: 107/7) حافظ ابو موسیٰ مدینی رحمہ اللہ کہتے ہیں: هَذَا حَدِيثُ ثَابِتٌ مَّشْهُورٌ يُحْتَجُ بِه . (اللطائف: 556-586-606) حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (تخریج احادیث المختصر: 205/2) نے اسے حسن کہا ہے، امام بیہقی رحمہ اللہ اس حدیث کے روات کے متعلق کہتے ہیں: وَكُلُّهُمْ ثِقَةٌ حَافِظٌ . (معرفة السنن والآثار: 29/1)»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق