المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
نکاح کا بیان
حدیث نمبر: 699
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الأَحْمَسِيُّ ، قَالَ: ثنا وَكِيعٌ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ: ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا قَضَيْنَا عُمْرَتَنَا، قَالَ لَنَا:" اسْتَمْتِعُوا مِنْ هَذِهِ النِّسَاءِ، وَالاسْتِمْتَاعُ عِنْدَنَا يَوْمَئِذٍ التَّزْوِيجُ، قَالَ: فَعَرَضْنَا ذَلِكَ عَلَى النِّسَاءِ، فَأَبَيْنَ إِلا أَنْ نَضْرِبَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُنَّ أَجَلا، قَالَ: فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: افْعَلُوا، قَالَ: فَخَرَجْتُ أَنَا وَابْنُ عَمٍّ لِي مَعِيَ بُرْدَةٌ، وَبُرْدَتُهُ أَجْوَدُ مِنْ بُرْدَتِي، وَأَنَا أَشَبُّ مِنْهُ، قَالَ: فَأَتَيْنَا امْرَأَةً فَعَرَضْنَا ذَلِكَ عَلَيْهَا، فَأَعْجَبَهَا شَبَابِي وَأَعْجَبَهَا بُرْدُ ابْنِ عَمِّي، فَقَالَتْ: بُرْدٌ كَبُرْدٍ، فَتَزَوَّجْتُهَا، وَكَانَ الأَجَلُ بَيْنِي وَبَيْنَهَا عَشْرًا، قَالَ: فَبِتُّ عِنْدَهَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ ثُمَّ أَصْبَحْتُ غَادِيًا إِلَى الْمَسْجِدِ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْحَجَرِ وَالْباب قَائِمٌ يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ: يَأَيُّهَا النَّاسُ، أَلا إِنِّي قَدْ كُنْتُ أَذِنْتُ لَكُمْ فِي الاسْتِمْتَاعِ مِنْ هَذِهِ النِّسَاءِ، أَلا فَإِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ ذَلِكَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ مِنْهُنَّ شَيْئًا فَلْيُخَلِّ سَبِيلَهَا، وَلا تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا" .
سیدنا سبرہ بن معبد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (عمرہ) کے لیے نکلے۔ جب ہم نے عمرہ ادا کر لیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان عورتوں سے (متعہ) فائدہ اٹھا سکتے ہو۔ ان دنوں ہمارے ہاں فائدہ اٹھانے کا طریقہ شادی تھا۔ چنانچہ ہم نے عورتوں کو شادی کی پیشکش کی، تو انہوں نے انکار کر دیا، الا یہ کہ ہم اپنے اور ان کے مابین مدت مقرر کریں۔ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کا تذکرہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مدت مقرر کر لیں۔ راوی کہتے ہیں: میں اور میرے چچا زاد بھائی (متعہ کے لیے) نکلے، میرے پاس ایک چادر تھی، جب کہ میرے چچا زاد بھائی کی چادر میری چادر سے عمدہ تھی، لیکن میں اس سے زیادہ جوان تھا۔ ہم ایک عورت کے پاس آئے اور اس کے سامنے اپنا مقصد پیش کیا، تو اسے میری جوانی پسند آئی، جب کہ میرے چچا زاد بھائی کی چادر پسند آئی۔ وہ کہنے لگی: چادریں تو ایک جیسی ہی ہیں۔ چنانچہ میں نے اس سے شادی کر لی اور ہمارے مابین دس دن کا معاہدہ طے پایا۔ میں نے وہ رات اس (عورت) کے ہاں گزاری اور اگلے دن صبح صبح مسجد چلا گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حطیم اور (بیت اللہ کے) دروازے کے درمیان کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے: لوگو! میں نے تمہیں ان عورتوں سے استمتاع کی اجازت دی تھی۔ سن لیں! اللہ نے قیامت کے دن تک اس (متعہ) کو حرام کر دیا ہے۔ لہٰذا جس کے پاس اس قسم کی کوئی عورت موجود ہو، وہ اسے آزاد کر دے اور جو کچھ بھی اسے دے رکھا ہے، اس میں سے کچھ بھی واپس نہ لینا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب النكاح/حدیث: 699]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح مسلم: 1406»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
الرواة الحديث:
الربيع بن سبرة الجهني ← سبرة بن معبد الجهني