🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (1114)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
ظہار (بیوی کو محرمات سے تشبیہ دینا) کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 744
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ الأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: كُنْتُ امْرَأً قَدْ أُوتِيتُ مِنْ جِمَاعِ النِّسَاءِ مَا لَمْ يُؤْتَ أَحَدٌ غَيْرِي، فَلَمَّا كَانَ مِنْ رَمَضَانَ ظَاهَرْتُ مِنِ امْرَأَتِي حَتَّى يَنْسَلِخَ فَرَقًا مِنْ أَنْ أُصِيبَ مِنْ لَيْلِي مِنْهَا شَيْئًا، فَأُتَابِعُ فِي ذَلِكَ حَتَّى يُدْرِكَنِي النَّهَارُ، وَأَنَا لا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَنْزِعَ، فَبَيْنَمَا هِيَ تَخْدُمُنِي ذَاتَ لَيْلَةٍ إِذِ انْكَشَفَ لِي مِنْهَا، فَوَثَبْتُ عَلَيْهَا، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ عَلَى قَوْمِي فَأَخْبَرْتُهُمْ خَبَرِي، فَقُلْتُ لَهُمُ: انْطَلِقُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبِرُوهُ بِأَمْرِي، فَقَالُوا: لا وَاللَّهِ لا نَفْعَلُ نَتَخَوَّفُ أَنْ يَنْزِلَ فِينَا قُرْآنٌ، أَوْ يَقُولَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَالَةً يَبْقَى عَلَيْنَا عَارُهَا، وَلَكِنِ اذْهَبْ فَاصْنَعْ مَا بَدَا لَكَ، فَخَرَجْتُ حَتَّى أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ خَبَرِي، فَقَالَ لِي: أَنْتَ بِذَاكَ؟ فَقُلْتُ: أَنَا بِذَاكَ قَالَ:" أَنْتَ بِذَاكَ؟ قُلْتُ: أَنَا بِذَاكَ قَالَ: أَنْتَ بِذَاكَ؟ قُلْتُ: أَنَا بِذَاكَ، فَأَمْضِ فِيَّ حُكْمَ اللَّهِ فَإِنِّي صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ، قَالَ: " أَعْتِقْ رَقَبَةً، قَالَ: فَضَرَبْتُ صَفْحَةَ عُنُقِي، فَقُلْتُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَصْبَحْتُ أَمْلِكُ غَيْرَهَا، قَالَ: فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَهَلْ أَصَابَنِي مَا أَصَابَنِي إِلا فِي الصَّوْمِ، قَالَ: فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا، قُلْتُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَقَدْ بِتْنَا لَيْلَتَنَا وَحْشًا مَا لَنَا عَشَاءٌ، قَالَ: اذْهَبْ إِلَى صَاحِبِ صَدَقَةِ بَنِي زُرَيْقٍ، قَالَ يَحْيَى: وَالصَّوَابُ زُرَيْقٌ، فَقُلْ لَهُ فَلْيَدْفَعْهَا إِلَيْكَ فَأَطْعِمْ عَنْكَ مِنْهَا وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ سِتِّينَ مِسْكِينًا، ثُمَّ اسْتَعِنْ بِسَائِرِهِ عَلَيْكَ وَعَلَى عِيَالِكَ" ، قَالَ: فَرَجَعْتُ إِلَى قَوْمِي، فَقُلْتُ: وَجَدْتُ عِنْدَكُمُ الضِّيقَ وَسُوءَ الرَّأْيِ، وَوَجَدْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّعَةَ وَالْبَرَكَةَ، قَدْ أَمَرَ لِي بِصَدَقَتِكُمْ فَادْفَعُوهَا إِلَيَّ، قَالَ: فَدَفَعُوهَا لِي.
سلمہ بن صخر انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے عورتوں سے جماع کرنے کی جس قدر قوت تھی، میرے علاوہ کسی اور کو نہ تھی۔ جب ماہ رمضان آیا، تو میں نے مہینہ بھر کے لیے اس ڈر سے اپنی بیوی کے ساتھ ظہار کر لیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میں رات کو اس سے جماع کروں اور دن ہونے تک کرتا ہی رہوں، الگ نہ ہو سکوں۔ ایک رات وہ میری خدمت کر رہی تھی کہ اس کے جسم کا کچھ حصہ ظاہر ہو گیا، تو میں نے اس سے جماع کر لیا۔ صبح ہوئی، تو میں اپنی قوم کے پاس گیا اور انہیں پورا واقعہ سنا کر کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جائیں اور انہیں میرے معاملے سے آگاہ کریں۔ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم تو یہ کام نہیں کریں گے، ہمیں ڈر ہے کہ کہیں ہمارے بارے میں قرآن نہ اتر آئے یا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے متعلق کوئی ایسی بات نہ کر دیں، جو ہمیشہ کے لیے ہمارے لیے عار بن جائے، لہذا تو اکیلا ہی جا اور جو سوجھتا ہے وہ کر۔ چنانچہ میں نکلا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کو پورا واقعہ سنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے تین مرتبہ دریافت فرمایا: آپ نے یہ کام کیا ہے؟ میں نے عرض کی: میں نے یہ کام کیا ہے۔ آپ اللہ کے حکم کے مطابق میرا فیصلہ فرمائیں، میں صبر کرتا ہوں اور اجر کی امید رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک غلام آزاد کیجیے۔ میں نے اپنی گردن پر ہاتھ مار کر کہا: اللہ کے رسول! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! میں اس (گردن) کے علاوہ کسی گردن کا مالک نہیں ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو ماہ کے لگاتار روزے رکھ لیں۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں روزے کی وجہ سے ہی تو اس مصیبت میں مبتلا ہوا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دیں۔ میں نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! ہم نے رات بھوکے گزاری ہے، ہمارے پاس رات کا کھانا نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنو زریق کے صدقہ کے ذمہ دار کے پاس جائیے۔ ابن یحییٰ کہتے ہیں: صحیح لفظ أریق ہے۔ اور اسے کہیں کہ وہ صدقہ آپ کو دے دے، تو اس میں سے ایک وسق کھجور اپنی طرف سے ساٹھ مسکینوں کو کھلا دینا، پھر باقی کھجوریں اپنے اور اپنے گھر والوں پر خرچ کر لینا۔ میں نے واپس آکر اپنی قوم سے کہا: تمہارے پاس تو میں نے تنگی اور بری رائے پائی، جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وسعت اور برکت پائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارا صدقہ مجھے دینے کا حکم دیا ہے، چنانچہ مجھے صدقہ دیں۔ کہتے ہیں: انہوں نے مجھے صدقہ دیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 744]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف: مسند الإمام أحمد: 436/5، سنن أبي داود: 2213، سنن الترمذي: 1198، سنن ابن ماجه: 2062، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن، امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (2378) نے صحیح اور امام حاکم رحمہ اللہ (203/2) نے امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے، حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (تحفة الطالب: 151) نے اس کی سند کو ”جید“ کہا ہے، حافظ ابن ملقن رحمہ اللہ (خلاصة البدر المنير: 209) نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (فتح الباري: 433/9) نے اس کی سند کو ”حسن“ قرار دیا ہے۔ محمد بن اسحاق کی یہ اطلائی روایت ہے۔ (معرفة الصحابة لأبی نعیم الأصبهانی: 4300) سلیمان بن یسار نے سیدنا سلمہ بن صخر انصاری رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا، لہٰذا سند انقطاع کی وجہ سے ”معلول“ ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ امام بخاری رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں: «سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ لَّمْ يَسْمَعْ عِنْدِي مِنْ سَلَمَةَ بْنِ صَخَرٍ» . (سنن الترمذي، تحت الحديث: 3299)، سنن ترمذی (1200) اور سنن کبری بیہقی (390/7) والی روایت کی سند بھی انقطاع کی وجہ سے ضعیف ہے، ابو سلمہ بن عبدالرحمن اور ابن ثوبان کا سیدنا سلمہ بن صخر رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں، اگرچہ اسے امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن اور امام حاکم رحمہ اللہ (204/2) نے امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر سند کو صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده ضعيف

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سلمان بن صخر الأنصاريصحابي
👤←👥سليمان بن يسار الهلالي، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن، أبو أيوب
Newسليمان بن يسار الهلالي ← سلمان بن صخر الأنصاري
ثقة
👤←👥محمد بن عمرو العامري، أبو عبد الله
Newمحمد بن عمرو العامري ← سليمان بن يسار الهلالي
ثقة
👤←👥ابن إسحاق القرشي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newابن إسحاق القرشي ← محمد بن عمرو العامري
صدوق مدلس
👤←👥يزيد بن هارون الواسطي، أبو خالد
Newيزيد بن هارون الواسطي ← ابن إسحاق القرشي
ثقة متقن
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله
Newمحمد بن يحيى الذهلي ← يزيد بن هارون الواسطي
ثقة حافظ جليل