المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
2. باب في الظهار
ظہار (بیوی کو محرمات سے تشبیہ دینا) کا بیان
حدیث نمبر: 744
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ الأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: كُنْتُ امْرَأً قَدْ أُوتِيتُ مِنْ جِمَاعِ النِّسَاءِ مَا لَمْ يُؤْتَ أَحَدٌ غَيْرِي، فَلَمَّا كَانَ مِنْ رَمَضَانَ ظَاهَرْتُ مِنِ امْرَأَتِي حَتَّى يَنْسَلِخَ فَرَقًا مِنْ أَنْ أُصِيبَ مِنْ لَيْلِي مِنْهَا شَيْئًا، فَأُتَابِعُ فِي ذَلِكَ حَتَّى يُدْرِكَنِي النَّهَارُ، وَأَنَا لا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَنْزِعَ، فَبَيْنَمَا هِيَ تَخْدُمُنِي ذَاتَ لَيْلَةٍ إِذِ انْكَشَفَ لِي مِنْهَا، فَوَثَبْتُ عَلَيْهَا، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ عَلَى قَوْمِي فَأَخْبَرْتُهُمْ خَبَرِي، فَقُلْتُ لَهُمُ: انْطَلِقُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبِرُوهُ بِأَمْرِي، فَقَالُوا: لا وَاللَّهِ لا نَفْعَلُ نَتَخَوَّفُ أَنْ يَنْزِلَ فِينَا قُرْآنٌ، أَوْ يَقُولَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَالَةً يَبْقَى عَلَيْنَا عَارُهَا، وَلَكِنِ اذْهَبْ فَاصْنَعْ مَا بَدَا لَكَ، فَخَرَجْتُ حَتَّى أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ خَبَرِي، فَقَالَ لِي: أَنْتَ بِذَاكَ؟ فَقُلْتُ: أَنَا بِذَاكَ قَالَ:" أَنْتَ بِذَاكَ؟ قُلْتُ: أَنَا بِذَاكَ قَالَ: أَنْتَ بِذَاكَ؟ قُلْتُ: أَنَا بِذَاكَ، فَأَمْضِ فِيَّ حُكْمَ اللَّهِ فَإِنِّي صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ، قَالَ: " أَعْتِقْ رَقَبَةً، قَالَ: فَضَرَبْتُ صَفْحَةَ عُنُقِي، فَقُلْتُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَصْبَحْتُ أَمْلِكُ غَيْرَهَا، قَالَ: فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَهَلْ أَصَابَنِي مَا أَصَابَنِي إِلا فِي الصَّوْمِ، قَالَ: فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا، قُلْتُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَقَدْ بِتْنَا لَيْلَتَنَا وَحْشًا مَا لَنَا عَشَاءٌ، قَالَ: اذْهَبْ إِلَى صَاحِبِ صَدَقَةِ بَنِي زُرَيْقٍ، قَالَ يَحْيَى: وَالصَّوَابُ زُرَيْقٌ، فَقُلْ لَهُ فَلْيَدْفَعْهَا إِلَيْكَ فَأَطْعِمْ عَنْكَ مِنْهَا وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ سِتِّينَ مِسْكِينًا، ثُمَّ اسْتَعِنْ بِسَائِرِهِ عَلَيْكَ وَعَلَى عِيَالِكَ" ، قَالَ: فَرَجَعْتُ إِلَى قَوْمِي، فَقُلْتُ: وَجَدْتُ عِنْدَكُمُ الضِّيقَ وَسُوءَ الرَّأْيِ، وَوَجَدْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّعَةَ وَالْبَرَكَةَ، قَدْ أَمَرَ لِي بِصَدَقَتِكُمْ فَادْفَعُوهَا إِلَيَّ، قَالَ: فَدَفَعُوهَا لِي.
سلمہ بن صخر انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے عورتوں سے جماع کرنے کی جس قدر قوت تھی، میرے علاوہ کسی اور کو نہ تھی۔ جب ماہ رمضان آیا، تو میں نے مہینہ بھر کے لیے اس ڈر سے اپنی بیوی کے ساتھ ظہار کر لیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میں رات کو اس سے جماع کروں اور دن ہونے تک کرتا ہی رہوں، الگ نہ ہو سکوں۔ ایک رات وہ میری خدمت کر رہی تھی کہ اس کے جسم کا کچھ حصہ ظاہر ہو گیا، تو میں نے اس سے جماع کر لیا۔ صبح ہوئی، تو میں اپنی قوم کے پاس گیا اور انہیں پورا واقعہ سنا کر کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جائیں اور انہیں میرے معاملے سے آگاہ کریں۔ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم تو یہ کام نہیں کریں گے، ہمیں ڈر ہے کہ کہیں ہمارے بارے میں قرآن نہ اتر آئے یا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے متعلق کوئی ایسی بات نہ کر دیں، جو ہمیشہ کے لیے ہمارے لیے عار بن جائے، لہذا تو اکیلا ہی جا اور جو سوجھتا ہے وہ کر۔ چنانچہ میں نکلا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کو پورا واقعہ سنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے تین مرتبہ دریافت فرمایا: آپ نے یہ کام کیا ہے؟ میں نے عرض کی: میں نے یہ کام کیا ہے۔ آپ اللہ کے حکم کے مطابق میرا فیصلہ فرمائیں، میں صبر کرتا ہوں اور اجر کی امید رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک غلام آزاد کیجیے۔ میں نے اپنی گردن پر ہاتھ مار کر کہا: اللہ کے رسول! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! میں اس (گردن) کے علاوہ کسی گردن کا مالک نہیں ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو ماہ کے لگاتار روزے رکھ لیں۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں روزے کی وجہ سے ہی تو اس مصیبت میں مبتلا ہوا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دیں۔ میں نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! ہم نے رات بھوکے گزاری ہے، ہمارے پاس رات کا کھانا نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنو زریق کے صدقہ کے ذمہ دار کے پاس جائیے۔ ابن یحییٰ کہتے ہیں: صحیح لفظ أریق ہے۔ اور اسے کہیں کہ وہ صدقہ آپ کو دے دے، تو اس میں سے ایک وسق کھجور اپنی طرف سے ساٹھ مسکینوں کو کھلا دینا، پھر باقی کھجوریں اپنے اور اپنے گھر والوں پر خرچ کر لینا۔ میں نے واپس آکر اپنی قوم سے کہا: تمہارے پاس تو میں نے تنگی اور بری رائے پائی، جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وسعت اور برکت پائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارا صدقہ مجھے دینے کا حکم دیا ہے، چنانچہ مجھے صدقہ دیں۔ کہتے ہیں: انہوں نے مجھے صدقہ دیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 744]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف: مسند الإمام أحمد: 436/5، سنن أبي داود: 2213، سنن الترمذي: 1198، سنن ابن ماجه: 2062، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن، امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (2378) نے صحیح اور امام حاکم رحمہ اللہ (203/2) نے امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے، حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (تحفة الطالب: 151) نے اس کی سند کو ”جید“ کہا ہے، حافظ ابن ملقن رحمہ اللہ (خلاصة البدر المنير: 209) نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (فتح الباري: 433/9) نے اس کی سند کو ”حسن“ قرار دیا ہے۔ محمد بن اسحاق کی یہ اطلائی روایت ہے۔ (معرفة الصحابة لأبی نعیم الأصبهانی: 4300) سلیمان بن یسار نے سیدنا سلمہ بن صخر انصاری رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا، لہٰذا سند انقطاع کی وجہ سے ”معلول“ ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ امام بخاری رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں: «سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ لَّمْ يَسْمَعْ عِنْدِي مِنْ سَلَمَةَ بْنِ صَخَرٍ» . (سنن الترمذي، تحت الحديث: 3299)، سنن ترمذی (1200) اور سنن کبری بیہقی (390/7) والی روایت کی سند بھی انقطاع کی وجہ سے ضعیف ہے، ابو سلمہ بن عبدالرحمن اور ابن ثوبان کا سیدنا سلمہ بن صخر رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں، اگرچہ اسے امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن اور امام حاکم رحمہ اللہ (204/2) نے امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر سند کو صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 745
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ ، أَخْبَرَهُمْ قَالَ: أَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّ رَجُلا مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ يُقَالُ لَهُ: سَلَمَةُ بْنُ صَخْرٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ نَحْوَهُ عَلَى اخْتِصَارٍ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ: قَالَ: فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ فَأَعْطَانِي إِيَّاهُ، وَهُوَ قَرِيبٌ مِنْ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا، فَقَالَ: تَصَدَّقْ بِهَذَا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَى أَفْقَرَ مِنِّي وَمِنْ أَهْلِي؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُلْهُ أَنْتَ وَأَهْلُكَ.
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ بنو زریق کا ایک آدمی جس کا نام سلمہ بن صخر تھا۔ آگے یہی روایت اختصار سے بیان کی ہے، آخر میں کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجوریں لائی گئیں، جو تقریباً پندرہ صاع تھیں، آپ نے فرمایا: انہیں صدقہ کر دیں۔ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! ان لوگوں پر صدقہ کروں، جو مجھ سے اور میرے گھر والوں سے زیادہ غریب ہوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ اور آپ کے گھر والے خود ہی کھا لیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 745]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف لأنقطاعه: سنن أبي داود: 2217، السنن الكبرى للبيهقي: 391/7، سلیمان بن یسار رحمہ اللہ کا سیدنا سلمہ بن صخر انصاری رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده ضعيف لأنقطاعه
حدیث نمبر: 746
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْجَزَرِيُّ ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْظَلَةَ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلامٍ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي خُوَيْلَةُ بِنْتُ ثَعْلَبَةَ ، وَكَانَتْ عِنْدَ أَوْسِ بْنِ صَامِتٍ أَخِي عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ ذَاتَ يَوْمٍ فَكَلَّمَنِي بِشَيْءٍ وَهُوَ فِيهِ كَالضَّجَرِ، فَرَدَدْتُهُ فَغَضِبَ، فَقَالَ: أَنْتِ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّي، ثُمَّ خَرَجَ فَجَلَسَ فِي نَادِي قَوْمِهِ، ثُمَّ رَجَعَ فَأَرَادَنِي عَلَى نَفْسِي، فَامْتَنَعْتُ مِنْهُ، فَشَادَّنِي فَشَادَدْتُهُ، فَغَلَبَتْهُ بِمَا تَغْلِبُ بِهِ الْمَرْأَةُ الرَّجُلَ الضَّعِيفَ، فَقُلْتُ: كَلا وَالَّذِي نَفْسُ خُوَيْلَةَ بِيَدِهِ، لا تَصِلُ إِلَيْهَا حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ فِيَّ وَفِيكَ حُكْمَهُ، ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْكُو مَا لَقِيتُ مِنْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" زَوْجُكِ وَابْنُ عَمِّكِ، فَاتَّقِي اللَّهَ وَأَحْسِنِي صُحْبَتَهُ"، قَالَتْ: فَمَا بَرِحْتُ حَتَّى نزل الْقُرْآنُ: قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا سورة المجادلة آية 1 حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْكَفَّارَةِ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مُرِيهِ فَلْيُعْتِقْ رَقَبَةً، قُلْتُ: وَاللَّهِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا عِنْدَهُ مِنْ رَقَبَةٍ يُعْتِقُهَا قَالَ: مُرِيهِ فَلْيَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ شَيْخٌ كَبِيرٌ مَا بِهِ مِنْ صِيَامٍ، قَالَ: فَلْيُطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا، قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا عِنْدَهُ مَا يُطْعِمُ، قَالَ: سَنُعِينُهُ بِعَرَقٍ مِنْ تَمْرٍ، وَالْعَرَقُ مَكْتَلٌ يَسَعُ ثَلاثِينَ صَاعًا، قُلْتُ: وَأَنَا أُعِينُهُ بِعَرَقٍ آخَرَ، قَالَ: قَدْ أَحْسَنْتِ فَلْيَتَصَدَّقْ بِهِ" .
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے بھائی سیدنا اوس بن صامت رضی اللہ عنہ کی بیوی سیدہ خویلہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ایک دن وہ (اوس بن صامت) میرے پاس آئے اور مجھ سے غصے میں کوئی بات کی، میں نے بھی جواب دے دیا، تو وہ ناراض ہو گئے اور کہنے لگے: تو مجھ پر میری ماں کی پشت کی مانند ہے۔ پھر نکلے اور اپنی قوم کی محفل میں جا بیٹھے۔ پھر (گھر) واپس آئے اور مجھ سے جماع کرنا چاہا تو میں نہ مانی۔ انہوں نے مجھے کھینچا، تو میں نے بھی سختی کی اور ان پر غالب آگئی، جیسا کہ عورت کمزور خاوند پر غالب آجاتی ہے۔ میں نے کہا: اس ذات کی قسم، جس کے ہاتھ میں خویلہ کی جان ہے، آپ مجھ سے اس وقت تک نہیں مل سکتے، جب تک کہ اللہ تعالیٰ میرے اور آپ کے درمیان فیصلہ نہ کر دے۔ پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شکایت لے کر گئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تیرا خاوند بھی ہے اور چچا زاد بھائی بھی ہے، اللہ سے ڈریں اور ان سے حسن سلوک سے رہیں۔ میں اپنی بات پر قائم رہی حتی کہ قرآن نازل ہو گیا: ﴿قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا﴾ (المجادلة: 1) (اللہ تعالیٰ نے اس عورت کی بات سن لی، جو آپ سے اپنے خاوند کے متعلق جھگڑا کر رہی تھی) حتی کہ کفارہ پر آیت ختم ہوئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں کہیں کہ وہ غلام آزاد کریں۔ میں نے کہا: اللہ کے نبی! اللہ کی قسم! ان کے پاس کوئی غلام نہیں ہے، جسے وہ آزاد کریں۔ فرمایا: انہیں کہیں کہ دو ماہ مسلسل روزے رکھیں۔ عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ بہت بوڑھے ہیں، ان میں روزہ رکھنے کی سکت نہیں۔ فرمایا: تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دیں۔ میں نے کہا: اللہ کے نبی! ان کے پاس کھلانے کے لیے بھی کچھ نہیں ہے۔ فرمایا: کھجوروں کا ایک ٹوکرا ہم اسے بطور تعاون دیں گے۔ (راوی کہتے ہیں:) عرق بڑے ٹوکرے کو کہتے ہیں، جس میں تیس صاع کھجور آتی ہے۔ میں (خویلہ بنت ثعلبہ) نے کہا: ایک ٹوکرا میں دے دوں گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ نے اچھا کیا، بس وہ اسے صدقہ کر دیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 746]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 410/6، سنن أبي داود: 2214، اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (4279) نے صحیح کہا ہے، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (فتح الباري: 433/9) نے اس کی سند کو ”حسن“ کہا ہے، علامہ ابن ترکمانی حنفی رحمہ اللہ (الجوهر النقي: 391/7) نے اس کی سند کو ”جید“ کہا ہے۔ معمر بن عبداللہ بن حنظلہ صدوق، حسن الحدیث ہیں۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 747
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عَمَّارٍ ، قَالَ: ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَجُلا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ ظَاهَرَ مِنِ امْرَأَتِهِ فَوَقَعَ عَلَيْهَا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي ظَاهَرْتُ مِنِ امْرَأَتِي فَوَقَعْتُ عَلَيْهَا مِنْ قَبْلِ أَنْ أُكَفِّرَ، قَالَ: وَمَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ يَرْحَمُكَ اللَّهُ؟ قَالَ: رَأَيْتُ خَلْخَالَهَا فِي ضَوْءِ الْقَمَرِ، قَالَ: " فَلا تَقْرَبْهَا حَتَّى تَفْعَلَ مَا أَمَرَ اللَّهُ تَعَالَى بِهِ" .
سیدنا عبد اللہ بن عباس بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، جس نے اپنی بیوی سے ظہار کرنے کے بعد اس سے جماع کر لیا تھا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! میں نے اپنی بیوی سے ظہار کیا تھا اور کفارہ دینے سے پہلے جماع کر چکا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اللہ آپ پر رحم کرے، ایسا کرنے پر کس چیز نے ابھارا؟ اس نے کہا: میں نے چاند کی روشنی میں اس کے پازیب دیکھے تھے۔ فرمایا: جب تک آپ اللہ کا حکم پورا نہ کر لیں، اس کے قریب نہ جانا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 747]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: سنن أبي داود: 2223، سنن النسائي: 3487، سنن الترمذي: 1199، سنن ابن ماجه: 2065، امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو حسن صحیح غریب کہا ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن