🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (1114)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
لعان (میاں بیوی کے ایک دوسرے پر الزام کا معاملہ) کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 753
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمُتَلاعِنَيْنِ، وَقَالَ: " حِسَابُكُمَا عَلَى اللَّهِ، أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ لا سَبِيلَ لَكَ عَلَيْهَا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَالِي؟ قَالَ: لا مَالَ لَكَ عَلَيْهَا، إِنْ كُنْتَ صَادِقًا عَلَيْهَا فَهُوَ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا، وَإِنْ كُنْتَ كاذِبًا فَذَلِكَ أَبْعَدُ لَكَ مِنْهُ" .
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعان کرنے والے میاں بیوی کو جدا جدا کر دیا اور انہیں فرمایا: آپ کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہے، آپ میں ایک تو جھوٹا ہے، اب آپ کو بیوی پر کوئی اختیار نہیں۔ اس نے پوچھا: اللہ کے رسول! میرا مال (مہر تو واپس دلوا دیں) فرمایا: ان کے ذمہ آپ کا کوئی مال نہیں ہے، اگر آپ سچے ہیں، تو وہ مال ان کی شرمگاہ کے بدلے میں گیا، جو آپ نے حلال کی ہے اور اگر آپ جھوٹے ہیں، تو وہ مال (مانگنا) آپ کے شایان شان نہیں ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 753]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 5312، صحيح مسلم: 1493»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥سعيد بن جبير الأسدي، أبو محمد، أبو عبد الله
Newسعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت
👤←👥عمرو بن دينار الجمحي، أبو محمد
Newعمرو بن دينار الجمحي ← سعيد بن جبير الأسدي
ثقة ثبت
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← عمرو بن دينار الجمحي
ثقة حافظ حجة
👤←👥الحسن بن محمد الزعفراني، أبو علي
Newالحسن بن محمد الزعفراني ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة