🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (1114)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

4. باب اللعان
لعان (میاں بیوی کے ایک دوسرے پر الزام کا معاملہ) کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 752
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ: ثنا يَحْيَى يَعْنِي الْقَطَّانَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، يَقُولُ:" سُئِلَتْ عَنِ الْمُتَلاعِنَيْنِ، أتُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا فِي إِمَارَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا؟ فَمَا دَرَيْتُ مَا أَقُولُ، فَقُمْتُ مَكَانِي إِلَى مَنْزِلِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَقُلْتُ: أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، الْمُتَلاعِنَانِ أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا؟ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، نَعَمْ، إِنَّ أَوَّلَ مَنْ سَأَلَ عَنْ ذَلِكَ فُلانُ بْنُ فُلانٍ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ مِنَّا يَرَى امْرَأَتَهُ عَلَى فَاحِشَةٍ، إِنْ تَكَلَّمَ تَكَلَّمَ بِأَمْرٍ عَظِيمٍ، وَإِنْ سَكَتَ سَكَتَ عَلَى مثل ذَلِكَ، قَالَ: فَلَمْ يُجِبْهُ، قَالَ: فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَتَاهُ، فَقَالَ: الَّذِي سَأَلْتُ عَنْهُ قَدِ ابْتُلِيتُ بِهِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ هَذِهِ الآيَةَ فِي سُورَةِ النُّورِ: وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ حَتَّى بَلَغَ: وَالْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ سورة النور آية 6 - 9 فَبَدَأَ بِالرَّجُلِ فَوَعَظَهُ وَذَكَّرَهُ، وَأَخْبَرَهُ أَنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الآخِرَةِ، فَقَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا كَذَبْتُ، ثُمَّ ثَنَّى بِالْمَرْأَةِ فَوَعَظَهَا وَذَكَّرَهَا، وَأَخْبَرَهَا أَنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الآخِرَةِ، فَقَالَتْ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنَّهُ لَكَاذِبٌ، قَالَ: فَبَدَأَ بِالرَّجُلِ فَتَشَهَّدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لِمَنَ الصَّادِقِينَ، وَالْخَامِسَةَ أَنَّ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ، ثُمَّ ثَنَّى بِالْمَرْأَةِ فَشَهِدَتْ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لِمَنَ الْكَاذِبِينَ، وَالْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ، ثُمَّ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا" .
سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی خلافت کے دور میں مجھ سے متلاعنین (خاوند بیوی) کے متعلق پوچھا گیا: کیا ان کے درمیان جدائی کرا دی جائے گی؟ مجھے علم نہیں تھا کہ میں کیا جواب دوں، چنانچہ میں اپنے گھر سے اٹھا اور سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے گھر چلا گیا، میں نے پوچھا: ابو عبد الرحمن! کیا متلاعنین (خاوند بیوی) کے درمیان جدائی ڈال دی جائے گی؟ انہوں نے کہا: سبحان اللہ! جی ہاں! سب سے پہلے اس بارے میں فلاں بن فلاں نے پوچھا تھا، اس نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے بتائیں کہ کوئی آدمی اپنی بیوی کو بدکاری کرتے ہوئے دیکھ لے تو کیا کرے؟ اگر بات کرتا ہے، تو بہت بڑی بات ہے، اگر چپ کرتا ہے، تو پھر بھی ایسے ہی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہ دیا، اگلے دن وہ آدمی آکر کہنے لگا: جو بات میں نے آپ سے پوچھی تھی، میں اس میں مبتلا ہو چکا ہوں۔ تو اللہ تعالیٰ نے سورہ نور کی یہ آیت اتاری: ﴿وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ........ وَالْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ﴾ (النور: 6 [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 752]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح مسلم: 1493»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 753
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمُتَلاعِنَيْنِ، وَقَالَ: " حِسَابُكُمَا عَلَى اللَّهِ، أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ لا سَبِيلَ لَكَ عَلَيْهَا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَالِي؟ قَالَ: لا مَالَ لَكَ عَلَيْهَا، إِنْ كُنْتَ صَادِقًا عَلَيْهَا فَهُوَ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا، وَإِنْ كُنْتَ كاذِبًا فَذَلِكَ أَبْعَدُ لَكَ مِنْهُ" .
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعان کرنے والے میاں بیوی کو جدا جدا کر دیا اور انہیں فرمایا: آپ کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہے، آپ میں ایک تو جھوٹا ہے، اب آپ کو بیوی پر کوئی اختیار نہیں۔ اس نے پوچھا: اللہ کے رسول! میرا مال (مہر تو واپس دلوا دیں) فرمایا: ان کے ذمہ آپ کا کوئی مال نہیں ہے، اگر آپ سچے ہیں، تو وہ مال ان کی شرمگاہ کے بدلے میں گیا، جو آپ نے حلال کی ہے اور اگر آپ جھوٹے ہیں، تو وہ مال (مانگنا) آپ کے شایان شان نہیں ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 753]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 5312، صحيح مسلم: 1493»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 754
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ: ثنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَجُلا لاعَنَ امْرَأَتَهُ وَانْتَفَى مِنْ وَلَدِهَا، " فَفَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا، وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالْمَرْأَةِ" .
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی سے لعان کیا اور اس کے بچے کا انکار کیا (کہ یہ بچہ میرا نہیں ہے) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو الگ الگ کر دیا اور بچہ عورت کو دے دیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 754]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 5315، صحيح مسلم: 1497»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 755
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ ، حَدَّثَهُمْ قَالَ: أَنِي ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: ثني الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لاعَنَ بَيْنَ الْعَجْلانِيِّ وَامْرَأَتِهِ، وَكَانَتْ حُبْلَى" .
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (عویمر) عجلانی اور ان کی بیوی کے درمیان لعان کرایا اور وہ حاملہ تھیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 755]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 6855، صحيح مسلم: 1497»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 756
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ: ثنا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: ثني الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ عُوَيْمِرًا أَتَى عَاصِمَ بْنَ عَدِيٍّ، فَذَكَرَ بَعْضَ الْحَدِيثِ، قَالَ: فَلاعَنَهَا، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ حَبَسْتَهَا فَقَدْ ظَلَمْتَهَا" قَالَ: فَطَلَّقَهَا، فَكَانَ بَعْدُ سُنَّةً لِمَنْ كَانَ بَعْدَهُمَا مِنَ الْمُتَلاعِنِينَ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" انْظُرُوا فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَسْحَمَ أَدْعَجَ الْعَيْنَيْنِ عَظِيمَ الأَلْيَتَيْنِ خَدَلَّجَ السَّاقَيْنِ، فَلا أَحْسَبُ عُوَيْمِرًا إِلا وَقَدْ صَدَقَ، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أُحَيْمِرَ كَأَنَّهُ وَحَرَةٌ فَلا أَحْسَبُ عُوَيْمِرًا إِلا وَقَدْ كَذَبَ" قَالَ: فَجَاءَتْ بِهِ عَلَى النَّعْتِ الَّذِي نَعَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ تَصْدِيقِ عُوَيْمِرٍ، قَالَ: وَكَانَ يُنْسَبُ بَعْدُ إِلَى أُمِّهِ .
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عویمر عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، سیدنا سہل رضی اللہ عنہ نے حدیث کا کچھ حصہ ذکر کیا، کہتے ہیں: انہوں (عویمر) نے اپنی بیوی سے لعان کیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر (اب) آپ نے اسے اپنے نکاح میں رکھا، تو اس پر ظلم ہوگا۔ چنانچہ انہوں نے اسے طلاق دے دی، اس کے بعد ہر لعان کرنے والے کے لیے یہی دستور رائج ہو گیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیکھیں اگر اس (عورت) نے کالے رنگ والا، شدید کالی آنکھوں والا، بھاری کولہوں والا اور موٹی موٹی پنڈلیوں والا بچہ جنا، تو میں عویمر کو سچا سمجھوں گا، اگر اس نے سرخ رنگ اور بدصورت (پست قد) بچہ جنا، تو میں عویمر کو جھوٹا سمجھوں گا۔ راوی کہتے ہیں: اس نے ان اوصاف پر مشتمل بچہ جنا، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عویمر کی تصدیق میں بیان کیے تھے۔ بعد میں اس (بچے) کو ماں کی طرف منسوب کیا جاتا تھا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 756]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 4747، صحيح مسلم: 1492»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں