المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
کنوارے اور شادی شدہ زانی کی حد کا بیان
حدیث نمبر: 811
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ، وَشِبْلٍ ، قَالُوا: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ: أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ إِلا قَضَيْتَ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ، فَقَامَ خَصْمُهُ وَكَانَ أَفْقَهَ مِنْهُ، فَقَالَ: صَدَقَ اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ وَائْذَنْ لِي، قَالَ: قُلْ، قَالَ: إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا، وَإِنَّهُ زَنَى بِامْرَأَتِهِ، فَأُخْبِرْتُ أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ، فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ مِائَةَ شَاةٍ وَخَادِمٍ، فَسَأَلْتُ رِجَالا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ، فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي جَلْدَ مِائَةٍ وَتَغْرِيبَ عَامٍ، وَأَنَّ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا الرَّجْمَ، فَقَالَ: لأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ، " الْمِائَةُ شَاةٍ وَالْخَادِمُ رَدٌّ، وَعَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، وَاغْدُ يَا أُنَيْسُ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا، فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا"، فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا.
سیدنا ابو ہریرہ، سیدنا زید بن خالد اور سیدنا شبل رضی اللہ عنہم بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ ایک آدمی آکر کہنے لگا: میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ آپ ہمارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کیجیے، اس کا مد مقابل جو اس سے زیادہ سمجھدار تھا، وہ بھی کھڑا ہو کر کہنے لگا: ٹھیک ہے، آپ ہمارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کیجیے اور مجھے (بات کی) اجازت دیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہیے، اس نے کہا: میرا بیٹا ان کے ہاں ملازم تھا، وہ ان کی بیوی کے ساتھ زنا کا مرتکب ہو گیا، مجھے خبر دی گئی کہ میرے بیٹے پر رجم کی سزا ہے، تو میں نے اس کے فدیے میں ایک سو بکریاں اور ایک غلام دیا ہے، اس کے بعد میں نے علما سے پوچھا، تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کی سزا سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے اور اس کی عورت پر رجم کی سزا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق ہی فیصلہ کروں گا، سو بکریاں اور خادم واپس ہوں گے اور آپ کے بیٹے کی سزا سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے، انیس! آپ اس آدمی کی بیوی کے پاس جائیں، اگر وہ اعتراف کر لے، تو اسے سنگسار کر دیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 811]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاري: 6827، صحیح مسلم: 1697»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
الرواة الحديث:
زيد بن خالد الجهني ← شبل بن خليد المزني