المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
چوری میں (ہاتھ) کاٹنے کی سزا کا بیان
حدیث نمبر: 827
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ ، أَخْبَرَهُمْ قَالَ: أَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، وَهِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَجُلا مِنْ مُزَيْنَةَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تَرَى فِي حَرِيسَةِ الْحَبْلِ؟ قَالَ: " هِيَ وَمِثْلُهَا وَالنَّكَالُ، لَيْسَ فِي شَيْءٍ مِنَ الْمَاشِيَةِ قَطْعٌ إِلا فِيمَا آوَاهُ الْمُرَاحُ، فَبَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِيهِ قَطْعُ الْيَدِ، فَمَا لَمْ يَبْلُغْ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِيهِ غَرَامَةُ مِثْلَيْهِ وَجَلَدَاتٌ نَكَالا" قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تَرَى فِي الثَّمَرِ الْمُعَلَّقِ؟ فَقَالَ:" هُوَ وَمِثْلَيْهِ مَعَهُ وَالنَّكَالُ، وَلَيْسَ فِي شَيْءٍ مِنَ الثَّمَرِ قَطْعٌ إِلا مَا آوَاهُ الْجَرِينُ، فَمَا أُخِذَ مِنَ الْجَرِينِ فَبَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِيهِ الْقَطْعُ، وَمَا لَمْ يَبْلُغْ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِيهِ غَرَامَةُ مِثْلَيْهِ وَجَلَدَاتٌ نَكَالا" .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ مزینہ قبیلے کا ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر پوچھنے لگا: اللہ کے رسول! آپ پہاڑ پر چرنے والے جانوروں کے متعلق کیا فرماتے ہیں؟ (یعنی اگر کوئی وہاں سے چوری کر لے، تو کیا حکم ہے؟) فرمایا: وہ جانور کے ساتھ جانور واپس کرے گا اور سزا بھی پائے گا، جانور چرانے پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، ان جانوروں کے علاوہ جو باڑے کے اندر ہوں اور ان کی قیمت ڈھال کی قیمت کے برابر ہو، تو ان میں ہاتھ کاٹا جائے گا، اگر ان کی قیمت ڈھال کی قیمت سے کم ہو، تو دو گنا تاوان لیا جائے گا اور بطور سزا کوڑے مارے جائیں گے۔ اس نے پوچھا: اللہ کے رسول! ان پھلوں کے متعلق آپ کیا فرماتے ہیں، جو درخت پر لٹک رہے ہوں؟ فرمایا: اس کے ساتھ دو گنا پھل واپس دے گا اور سزا بھی پائے گا، پھل چرانے پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، ان پھلوں کے علاوہ جو کھلیان میں رکھے گئے ہوں، سو جو پھل کھلیان سے چرائے جائیں اور ان کی قیمت ڈھال کی قیمت کے برابر ہو، تو ان میں ہاتھ کاٹا جائے گا، اگر ان کی قیمت ڈھال کی قیمت سے کم ہو، تو دو گنا تاوان لیا جائے گا اور بطور سزا کوڑے مارے جائیں گے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 827]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 180/2، 203، سنن أبي داود: 1710، 4390، سنن النسائي: 4961، سنن الترمذي: 1289، سنن ابن ماجه: 2569، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن اور امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (2327) نے صحیح کہا ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن
الرواة الحديث:
شعيب بن محمد السهمي ← عبد الله بن عمرو السهمي